آٹھ اکتوبر، یوم استقامت و عزم تعمیر نو

آٹھ اکتوبر، یوم استقامت و عزم تعمیر نو

تحریر: نجم ڈار مظفرآباد آذادکشمیر 

8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن اور ناقابل فراموش زلزلے کی کچھ یادیں اور زلزلوں کے بارے میں .کچھ بنیادی معلومات 

اللہ تبارک و تعالی بیش بہا صفات کے مالک ہیں جس کا احاطہ کرنا عقل انسانی کہ بس سے باہر ہے۔ اللہ کی ذات بیک وقت رحیم و کریم اور قہار و جبار ہے۔ دنیا میں  وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حادثات اسی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ جہاں لا محدود نعمتیں اور عنائتیں اس کے رحیم و کریم ہونے کی دلیل ہیں وہاں  ارضی و سماوی آفات اور مصائب اس کے قہار و جبار ہونے کا پتہ دیتی ہیں۔ چنانچہ کارخانۂ قدرت میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حادثات ہی وہ ذریعہ ہیں جس سے وہ عظیم ذات مسلسل اور ہر لحظہ اپنا اظہار کر رہی ہے۔ تمام تر تباہی میں تعمیر کی کئی صورتیں مضمر ہوتی ہیں

یہ ہفتہ آٹھ اکتوبر 2005، کی ایک صبح تھی حسب معمول پرائم پبلک سکول مظفرآباد میں ہم سب دوست موجود تھے، انگلش کا پیریڈ اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا کہ آٹھ بج کر 52 منٹ پر اچانک ایسا محسوس ہوا کہ جیسے زمین کا ایک سرا ایک طرف سے آسمان کو چھو کر واپس زمین کی طرف آتا ہے اور پھر دوسرا سرا آسمان کی طرف اٹھ جاتا ہے۔ ہم اک دوسرے پر ایسے گر پڑ رہے تھے جیسے تیز آندھی میں شاپر اور کاغذ ادھر ادھر لڑھکتے ہیں۔ ہم بڑی مشکل سے سکول سے باہر آئے ہم سب کے چہروں پر خوف اور ذبان پر کلمہ طیبہ کا ورد جاری تھا۔

     یہ کشمیر اور پاکستان کی تاریخ کا نا قابل فراموش بدترین زلزلہ تھا جس کے نتیجے میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقوں ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالاکوٹ اور آزاد کشمیر کے چار ضلعوں نیلم، مظفر آباد، باغ اور پونچھ میں  قیامت ٹوٹ پڑی۔ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6 تھی اور اُس کا مرکز اسلام آباد سے 95 کلومیٹر دور اٹک اور ہزارہ ڈویژن کے درمیان تھا۔ ایک اندازے کے مطابق زلزلے سے آٹھ ملین سے زائد آبادی متاثر ہوئی۔ جب کہ  400 ارب روپے کی مالیت کا نقصان ہوا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کل ہلاکتیں 74,698 تھیں جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے کے باعث ایک لاکھ سے زائد افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوئے۔ سوا لاکھ سے زائد زخمی اور 30 لاکھ بے گھر ہوئے۔ 7 ہزار سے زائد تعلیمی ادارے اور 3,837 کلومیٹر طویل سڑکیں تباہ ہوئیں۔ تقریباً اڑھائی لاکھ کے قریب مویشی بھی ہلاک ہوئے۔ کئی روز تک آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہا اور مجموعی طور پر 978 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے گئے۔ کئی گاؤں صفحۂ ہستی ہی سے مٹ گئے، قیامت صغریٰ میں بلند و بالا عمارتیں مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی تھیں۔ غرض یہ کہ زلزلہ دہ علاقوں کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

زلزلے ہیں، بجلیاں ہیں، قحط ہیں،

آلام ہیں کیسی کیسی دخترانِ مادرِ ایام ہیں۔

یہ دنیا کا چوتھا بڑا زلزلہ تھا جو المیے کے لحاظ سے چودھواں بڑا تصور کیا جاتا ہے۔ زلزلے میں ماں باپ سے بچھڑنے والے بچوں کے ذہنوں میں آج بھی اس سانحے کی تلخ یادیں موجود ہیں۔ آج 8 اکتوبر وہی دن ہے جب ہنستی مسکراتی زندگی غم و الم کی تصویر بن گئی تھی۔ اس زلزلے نے پل بھر میں قیامت ڈھا دی تھی، گھروں میں والدین تو اسکولوں میں ان کے بچے پتھروں کے ڈھیر میں زندہ دفن ہوئے۔ ہر طرف گری پڑی عمارتیں اور لینڈ سلائیڈنگ کے مناظر تباہی کی داستان سنا رہے تھے۔ 

یہ زلزلہ ملک کے بالائی علاقوں میں آیا تھا جہاں اکتوبر میں  موسم سرما کی شروعات ہوتی ہیں۔ ان علاقوں میں شدید سردی کی وجہ سے زندہ بچ جانے والوں کا جینا اور بھی مشکل ہوگیا۔ کشمیر کے دیگر علاقوں، پاکستان، تارکینِ وطن پاکستانی و کشمیریوں اور عالمی برادری نے اس زلزلے پر فوری طور پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کو ٹینٹ، خوراک، گرم کپڑے، پینے کا صاف پانی اور دیگر ضروریات زندگی کو فی الفور پہنچانے کے لیے اقدام اٹھائے گئے۔ ان کارروائیوں میں سب سے زیادہ حصہ پاکستان کی بہادر افواج کا تھا جنہوں نے 24 گھنٹے کام کرکے اپنے متاثرہ بھائیوں کی مدد کی۔

زلزلے کیوں آتے ہیں؟

     آج کا ستاروں پر کمند ڈالنے والا انسان اس بات کی کوئی حتمی توضیح پیش نہیں کر سکا کہ زلزلے کیوں آتے ہیں، حالانکہ اس کی بہت سی وضاحتیں ممکن ہیں۔ ایک تاویل تو یہ ہے کہ جب انسان راہِ حق سے بھٹک جاتا ہے تو راہِ راست پر لانے کے لیے اسے جھنجھوڑا جاتا ہے تاکہ وہ سنبھل جائے۔

زمیں کو فراغت نہیں زلزلوں سے

نمایاں ہیں فطرت کے باریک اشارے

    قدیم زمانے میں زلزلے سے عجیب طرح کی روايات اور کہانیاں منسوب تھیں۔ جیسے ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا کہ ایک بہت بڑے بیل نے زمین کو اپنے ایک سینگ پر اٹھایا ہوا ہے۔ جب وہ سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔       زلزلوں کے متعلق جدید سائنسی نظریہ ریورنیڈ جان مچل نے 1760 میں پیش کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ جب زیرزمین چٹانیں(ٹیکٹونک پلیٹس) حرکت کرتی ہیں تو زمین کی سطح لرزنے لگتی ہے۔ زمین کے اندر موجود چٹانی پرتیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں اور جب وہ اپنی جگہ سے کھسکتی ہیں تو ان کے کناروں پر شدید دباؤ پڑتا ہے اور جب یہ دباؤ ایک خاص سطح پر پہنچتا ہے تو وہ زلزلے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے ذمین کی سطح پر موجود تعمیرات کو نقصان پہنچتا ہے۔ اگر زلزلے کا مرکز سمندر کی تہہ یا ساحلی علاقوں کے قریب ہو تو سمندری طوفان اور سونامی آ سکتے ہیں جس سے ساحلی علاقوں .میں بڑے پیمانے پر نقصان ہو سکتا ہے

آٹھ اکتوبر، یوم استقامت و عزم تعمیر نو

زلزلے کی شدت کی پیمائش ریکٹر اسکیل کی مدد سے کی جاتی ہے، یہ آلہ ایک امریکی سائنس دان چارلس ریکٹر نے 1935 متعارف کرایا تھا جس میں ایک سے 10 کے اسکیل پر زلزلے کی پیمائش کی جا سکتی ہے

زلزلے کی اقسام

زلزلوں کو عمومی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ریکٹر اسکیل پر چار درجے سے کم شدت کے زلزلوں کو معمولی یا کمزور نوعیت کا زلزلہ کہا جاتا ہے۔ چار سے زیادہ اور چھ سے کم درجے کا زلزلہ درمیانی شدت کا زلزلہ کہلاتا ہے، جب کہ ریکٹر اسکیل پر 6 سے 7 شدت کے زلزلے عمارتوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جب زلزلے کی شدت 8 کے ہندسے بڑھتی ہے تو وہ تباہ کن شکل اختیار کر سکتا ہے۔ 

زلزلے میں کیا کرنا چاہیے؟

     زلزلے کی صورت میں فوری طور پر عمارت سے باہر کھلی جگہ پر چلے جانا چاہیے۔ اگر باہر نکلنا ممکن نہ ہو تو میز یا اسی نوعیت کی کسی دوسری چیز کے نیچے پناہ لینی چاہیے تاکہ آپ خود کو چھت یا دیواروں سے ممکنہ طور پر گرنے والے ملبے سے بچا سکیں۔ زلزلے کے دوران کھڑکیوں، بھاری فرنیچر اور بڑے آلات وغیرہ سے دور رہیں۔

تباہ کن زلزلے

     جدید تاریخ کے چند تباہ کن زلزلے یہ ہیں۔

 2004 میں انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں 9 اعشاریہ 1 شدت کے زلزلے میں دو لاکھ 27 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

 2010 میں ہیٹی میں 7 درجے کے زلزلے نے دو لاکھ 22 ہزار سے زیادہ زندگیوں کے چراغ گل کر دیے تھے۔

 2008 میں چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان میں 7 اعشاریہ 8 قوت کے زلزلے میں 87 ہزار افراد ہلاک اور پونے چار لاکھ زخمی ہو گئے تھے۔

8 اکتوبر 2005 میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں 7 اعشاریہ 6 طاقت کے زلزلے میں 75 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے تھے۔ 

     ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ پاکستان ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں انتہائی شدید زلزلے آتے رہے ہیں اور آتے رہیں گے۔پاکستان میں کئی جگہوں پر فالٹ لائن گزرتی ہے۔ سب سے بڑی دراڑ یا ’’فالٹ‘‘ چمن کے مقام پر ہے جو آٹھ سو سے نو سو کلو میٹر تک لمبی ہے۔ اسی طرح شمالی علاقوں میں بھی بے شمار فالٹ ہیں، جو کہ دونوں پلیٹوں کے ٹکرائو سے مین بائونڈری پر پیدا ہوئی ہیں، اس کا مرکز اسلام آباد تک ہے۔ چمن میں بڑی فالٹ لائن ہونے کی وجہ سے بلوچستان کے علاقے زیارت، پشین، ماشکیل، آواران اور خضدار چھوٹے بڑے زلزلوں سے متاثر ہوتے رہتے ہیں۔ 

 ان حالات کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ پورے ملک میں بالعموم اور فالٹ لائن کے علاقوں میں بالخصوص بڑی عمارتوں اورپلازوں میں ردوبدل کیا جائے۔ بلڈنگ کوڈ پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ نئی عمارتیں زلزلہ پروف بنائی جائیں۔ فوری طور پر جدید آلات سے لیس جدید ترین ارتھ کوئیک انفارمیشن سینٹر قائم کیا جائے۔ اگرچہ زلزلے کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی لیکن قدرتی آفات سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کو کسی قدر کم تو ضرور کیا جا سکتا ہے

آٹھ اکتوبر کے ہولناک زلزلے کو 15 سال کا عرصہ گزر گیا ہے۔ جواں ہمت متاثرین زلزلہ نے اپنی مدد آپ کے تحت دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑنے ہونے کی ایک عظیم مثال قائم کی ہے۔ پاکستانی قوم نے قربانی، انسان دوستی اورمثالی جذبے کا مظاہرہ کیا ورنہ موجودہ نظام صورتحال کو سنبھالنے کے ہر گز قابل نہ تھا۔ آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا میں 8 اکتوبر 2005 کو آنے والے قیامت خیز زلزلے کی تباہ کاریاں اور لرزہ خیز یادیں 15 سال بعد بھی باقی ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ تمام شہدائے زلزلہ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں اور ہمہں مستقبل میں ایسی آفات اور آزمائشوں سے محفوظ رکھیں آمین .