مکڑا چوٹی مظفرآباد آزاد کشمیر

مکڑا چوٹی مظفرآباد آزاد کشمیر

تحریر و تصاویر : نجم ڈار مظفرآباد آذادکشمیر

سانسیں روک دینے والی قدرتی خوبصورتی جیسے برف سے ڈھکی چوٹیاں، سرسبز سبزہ زار، بنجر چٹانیں اور چکردار پہاڑیاں، جنگلات، زرخیر میدان اور دریا، غرض ریاست جموں وکشمیر کسی جنت سے کم نہیں۔ یہاں ایسے مقامات کی کمی نہیں جو تفریح، تحقیق اور ماحولیاتی سیاحت کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔

اسلام آباد اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے مظفرآباد آذادکشمیر کی طرف سفر کرنے والے سیاح جب مری یا ایبٹ آباد پہنچتے ہیں تو دور ایک سفید برف پوش چوٹی ایسے نظر آتی ہے جیسے مکڑا (Spider) اپنے جال میں کھڑا ہے، یہ چوٹی مکڑا کہلاتی ہے۔ مکڑا ہمالیہ سلسلے کی شمالی پاکستان کےعلاقے میں ضلع مانسہرہ اور آذادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے سنگم پر واقع شاندار چوٹی ہے۔مکڑا چوٹی سطح سمندر سے 3885 میٹر (12746 فٹ) بلند ایک دلکش شاندار مقام ہے۔ یہ مقام ان افراد کو اپنی جانب کھینچتا ہے جو پہاڑوں، بلند ہموار مقامات اور جانورں و پودوں کو سراہتے ہوں۔ یہاں کی سانس روک دینے اور سحر طاری کردینے والی خوبصورتی دنیا کے تمام غموں کو بھلانے کے لیے کافی ہے۔

مکڑا چوٹی مظفرآباد آزاد کشمیر

اس چوٹی تک پہنچنے کے تین اہم راستے ہیں۔
اسلام آباد سے مانسہرہ کاغان روڈ براستہ کوائی ، شوگراں اور منہ پایا سے مکڑا۔
مظفرآباد سے بھیڑی (40 کلومیٹر) اور وہاں سے براستہ جب سر اور بانڑ سے ہوتے ہوئے مکڑا ٹاپ پر پہنچا جا سکتا ہے۔
اس چوٹی کو سر کرنے کا آسان ترین اور مختصر راستہ مظفرآباد سے براستہ کہوڑی ، بشاش ، بٹل ، سیدپور ،راجپیاں تک تقریبا ہر قسم کی گاڑی پر ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے وہاں سے آگے تقریبا ایک گھنٹے کی جیپ ڈرائیو (سڑک کی پختگی کا کام بھی جاری ہے) سے گھیناں گھمٹ سے دومیل کے مقام پر پہنچا جا سکتا ہے۔

مکڑا چوٹی مظفرآباد آزاد کشمیر

ایک بار جب آپ یہاں سے گزر جاتے ہیں اور بلندی بڑھ جاتی ہے تو درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی محسوس ہوتی ہے جبکہ پودوں اور جھاڑیوں کی اقسام بھی مختلف ہوجاتی ہیں۔ یہاں سے پیدل سفر کرتے ہوئے ایک سے دو گھنٹے ( جسمانی تندرستی کے مطابق) میں مکڑی پر پہنچا جا سکتا ہے۔یہ جہگہ انتہائی سر سبز و شاداب میدانی چراہ گاہ ہے جہاں پر آزاد کشمیر اور ہزارہ کے لوگوں کے مال مویشی گرمیوں میں چرنے کے لئے آتے ہیں۔ یہاں کا منظر سانسیں روک دیتا ہے، جبکہ ہر طرف موجود چھوٹی بڑی پہاڑی چوٹیاں اور ہل ٹاپ پر سرسبز میدان کا نظارہ سحر سا طاری کردیتا ہے۔ان مقامات میں گھومنے پھرنے کے لیے آنے کا بہترین وقت جون کی وسط سے اگست کی وسط تک ہوتا ہے، جب یہاں طرح طرح کے پودے اور پھول کھل کر اس علاقے کے قدرتی قالین کا نظارہ پیش کرتے ہیں ۔

makra muzaffarabad ajk

مکڑی سے مکڑا ٹاپ پر پہنچنے میں تقریبا 3 گھنٹوں(جسمانی صحت کے لحاظ) کی پیدل مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔ گھوڑوں کا سفر بھی ممکن ہے۔ اس سفر کے دوران سرسبز میدان اور پہاڑوں کے مناظر تھکن طاری نہیں ہوتے دیتے ۔ شاندار سبزہ زار، شفا بخش پودے، جنگلی حیات، گلیشیئرز اور معتدل موسم اس چوٹی کے قدرتی کینوس کو مکمل کرتے ہیں۔
ایک بار جب آپ چوٹی پر پہنچ جائیں گے تو چھوٹی اور بڑی پہاڑی چوٹیوں کو دیکھ سکتے ہیں اور آپ کی آنکھوں سے سامنے تیرے بادل یہ احساس دلانے کے لیے کافی ثابت ہوتے ہیں آپ خود بھی آسمان میں تیر رہے ہیں۔ اس علاقے کا موسم کافی ٹھنڈا ہوتا ہے اور یہ منفی پانچ سے 20 سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔بلند چوٹیاں سال کے بیشتر مہینے برف سے ڈھکی رہتی ہیں جبکہ سرسبز چراگاہوں پر خانہ بدوشوں کے مویشی نظر آتے ہیں۔ یہاں سے آذاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں کا خوبصورت منظر قابل دید ہوتا ہے یہاں سے ایک طرف مظفرآباد، پیر چناسی اور مری کی پہاڑیوں کے دلکش اور پر فریب نظارے آنکھوں کو لبھاتے ہیں تو دوسری طرف سے کاغان ویلی اور دوسری مشہور چوٹیاں موسی کا مصلی، ملکہ پربت اور چھمبرا کی برف پوش چوٹیوں کے حسینمناظر دل و دماغ پر سحر طاری کر دیتے ہیں۔ مطلع مکمل صاف ہونے کی صورت میں یہاں سے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کا نظارہ بھی ممکن ہے۔ اس چوٹی کے دامن میں موجود گلیشیر دریائے کنہار اور دریائے نیلم کے معاون ندی نالوں کو سارا سال پانی فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔
آلودگی سے پاک فطرت کے حسین قدرتی مناظر اور جنگلات سے ڈھکے دامن اس چوٹی کے حسن کو اور بھی چار چاند لگا دیتے ہیں۔ ان جنگلات میں انتہائی قیمتی اور نایاب جڑی بوٹیوں کی بھی بہتات ہے جو مختلف امراض کا شافعی علاج ہیں۔ مختلف انواع کے چرند، پرند اور درندے بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔ ان جنگلات میں موجود مختلف اقسام کے درخت، جھاڑیوں اور جنگلی پھلدار بیل بوٹے اس کی افادیت اور اہمیت کو بڑھا دیتے ہیں۔

famous places to visit in muzaffarabad ajk

جب بھی اور جہاں بھی ماحولیات پر بات ہوتی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ افسوس کے ساتھ ملک میں جنگلات اور سرسبز علاقوں کے خاتمے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، جس نے جنگلی حیات کی افزائش نسل کو متاثر کیا ہے، جبکہ سینکڑوں اقسام جانداروں کا خاتمہ ہوچکا ہے اور دیگر کو خطرہ لاحق ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان خاص طور پر کشمیر ایک زمانے میں لاتعداد اقسام کے جانوروں کا میزبان تھا، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگلات کی کٹائی اور غیرقانونی شکار نے ہمارے جنگلات کو نومینز لینڈ سے نو وائلڈ لائف لینڈ بنادیا۔جنگلات ہمارے ماحولیاتی نظام کے استحکام کا انتہائی اہم جزو ہیں، ان کے تحفظ سے متعدد اقسام کے خطرے سے دوچار جانداروں کو مکمل خاتمے سے بچایا جاسکتا ہے۔ جنگلی علاقے کے تحفظ کے لیے مخصوص کرنے سے اس علاقے میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں مدد ملے گی بلکہ اس سے ماحولیاتی سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔
یہاں پر سیاحوں کی آمد کم ہے مگر سوشل میڈیا میں کوریج کے باعث یہاں سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، یہاں آذادکشمیر سمیت ہزارہ کے تمام علاقوں سے سیاح آتے ہیں، یہاں ملک کے دیگر حصوں سے بھی لوگ آتے ہیں، یہ اکثر ایسے دوستوں کے گروپس ہوتے ہیں جو میڈیا یا انٹرنیٹ پر مکڑا ہل کے بارے میں کچھ پڑھ کر یہاں کا رخ کرتے ہیں”۔

makra mountaion

یہاں کےمقامی افراد کو بنیادی سہولیات جیسے تعلیم، بنیادی انفراسٹرکچر، طبی امداد وغیرہ کی کمی کے باعث متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ کسی میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں انہیں مظفرآباد جانا پڑتا ہے، پانی اور سڑکوں کی تعمیر کیساتھ مکڑا چوٹی کے لیے دیگر سہولیات، موبائل فون ٹاورز، ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور چیئرلفٹز وغیرہ کی فراہمی پر غور ہونا چاہئے۔ یہاں سیاحوں کی سہولیات کے لیے ہوٹلوں اور ریسٹ ہاﺅسز وغیرہ تعمیر کئے جانے کی بھی ضرورت ہے۔ مکڑا ایک کامیاب ہل اسٹیشن بن کر ہزاروں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ کر حکومت کے لیے آمدنی اور مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس علاقے کے لوگ کافی خاموش فطرت، خوش مزاج اور مہمان نواز ہیں۔ آپ اپنے ساتھ ڈبہ بند خوراک بھی لے جاسکتے ہیں یا پہاڑی پر اپنا کھانا خود بھی پکا سکتے ہیں۔ مکڑا ہل کا سفر ایک یادگار تجربہ اور سنسنی خیز ایڈونچر ہے، اور جن کو اس بات پر شک ہو وہ خود اس کا تجربہ کرکے دیکھیں۔ یہاں کے پہاڑیوں کی خوبصورتی آپ کی منتظر ہے۔