معاشرتی بگاڑ کا ذمہ دار کون۔۔۔۔؟

Who is responsible for social evils?

            میرا جواب ہے تعلیمی ادارے ۔۔۔جی ہاں تعلیمی ادارے ذمہ دار ہیں معاشرتی بگاڑ کے ۔کیوں نہ ہوں جب تعلیم کا مقصد تربیت نہیں بزنس ہو۔ ہر گلی ،ہر محلے میں سکول ، کالج کھول دینے سے بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ ایک بہت تعلیم یافتہ معاشرہ پنپ رہا ہے ۔۔تعلیم یافتہ تو ہے مگر تربیت کا فقدان ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد تربیت کرنا ہوتا ہے ۔ایسے افراد تیا رکرنا جو اعلیٰ کردار اور بہترین رویوں کے حامل ہوں ۔ لیکن ہمارے ادارے تربیت نہیں صرف کتاب رٹانے اور امتحان پاس کرنے کی تعلیم دے رہے ہیں۔ پہلے تو اگر ہم اپنے تعلیمی نظام کی بات کریں تو ہم ایک ہی معاشرے میں تین یا چار قسم کا نظام تعلیم رائج کیے ہو ئے ہیں ۔جو باعث تشویس ہے ۔ چونکہ یہیں سے ہم ایک پاکستانی معاشرے کو مختلف ڈگر پر استوار کر دیتے ہیں۔

            ہاں ایک ہی پاکستان کے باسی ، ایک کلمہ اور ایک نعرہ بلند کرنے والے ۔۔لیکن ان تعلیمی ادروں کے دوہرے نظام نے مختلف نظریات کے حامل لوگ پیدا کر دیے اور یہ ایک دائرہ ہے جس نے ہمارے پاکستانی معاشرے میں بگاڑ کے ساتھ ساتھ اعلیٰ و ادنیٰ، مڈل اور ایلیٹ کلاس کے کلچر کو فروغ دیا۔تعلیمی ادراوں کا یہ دوہرا نظام جس میں معاشرتی بگاڑ کی جڑیں موجود ہیں ۔ہم مختلف رویوں اور مختلف سوچ کے حامل افراد تیار کر رہے ہیں ۔انہی اداروں سے فارغ لوگ انتظامیہ اور میڈیا کا حصہ بنتے ہیں ۔انہی اداروں کی تربیت سے تیا رکردہ افراد آگے چل کر معاشرے کی اصلاح کے بجائے معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ پہلے تو ہمارا سلیبس اپ ڈیٹ نہیں ہے یہ مختلف طبقات اورغیر اخلاقی رویوں کا باعث بنتا ہے ۔یہ تعلیمی ادارے تربیت نہیں بلکہ اپنے خود ساختہ تعلیمی نظاموں کا چرچا کرتے ہیں ۔

             جب تک ہم نے معاشرے میں جد ید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک یکساں تعلیمی نظام متعارف نہیں کروایا ہم معاشرتی بگاڑ کے دلد ل میں دھنستے چلے جائیں گے۔اور یہ معاشرتی بگاڑ کی آگ مزید سلگتی رہے گی۔اور ہم اس میں جھلستے رہیں گے۔

            آج ہرشخص کسی نہ کسی بے بسی کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے ۔انصاف کی عدم دستیابی ، ظلم و بربریت، بے حسی، رشوت، لالچ، برے رویے۔۔۔یہ سب معاشرتی بگاڑ کا باعث ہیں۔ ہمارے ادارے کتاب کے اندر لکھے گے چند الفاظ کو رٹانے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنافرض اداکر دیا ۔۔!لیکن نہیں آپ کسی بھی معاشرے کی بات کریں وہ لوگ جو اختیارات رکتھے ہیں وہی اگر بگاڑ کا باعث بن جائیں تو باقی پھر کیا رہ جاتا ہے ۔

            معاشرتی ناہمواری کا سب سے بڑا پہلو انہیں اداروں سے نکلنے والے وہ افراد ہیں جن میں سے کچھ لوگ درس و تدریس جیسے مقدس پیشے سے بھی وابستہ ہیں۔پھر کچھ افراد انتظامی امور کی نگداشت کرنے والے ، کچھ انصاف کے تقاضے پورے کرنے پر معمور ہیں اگر ادارے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ میر ا مطلب ہے تربیت یافتہ افراد تیار کرکہ کسی بھی انتظامیہ کے اندر بیھجنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تویہ بگاڑ اور ناہمواریاں خود بخود ختم ہو سکتے ہیں ۔میڈیا سے وابستہ تربیت یافتہ افراد بجائے معاشی بگاڑ کے لوگوں کی بہترین تربیت بھی کر سکیں گے ۔کیونکہ جب ایک تربیت یافتہ شخص کسی بھی ادارے کا سربراہ ہو گا تو باقی ماندہ ناہمورایاں ٹھیک کرنا اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔لیکن بات تو احساس کی ہے کہ کیا اس عہدہ دار کو اپنی ذمہ داری کا احسا س ہے ۔۔اور اس احساس اور ذمہ داری کا براہ راست تعلق اس کی اس تربیت سے ہے جو ایک ادارے نے کی ہے۔اور سیکھنے کا عمل اس کے گھر کے بعد تعلیمی اداروں سے ہی شروع ہوتا ہے۔

            آج کی اس تیز رفتار زندگی میں جہاں والدین روزگار کے معاملات میں بہت مصروف ہیں اور بچوں کی تربیت کا وقت تک بہت کم نکال پاتے ہیں وہاں یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ آج بہت جلدی ایک بچے کو سکول میں داخل کرا دیا جاتا ہے اور یہیں سے اس کی تربیت کا آغاذ ہو جاتا ہے۔اگر میرے ٹیچر نے مجھے کھبی وقت کی پابندی کا احساس نہ دلایا ہوتا، مجھے بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت کا درس نہ دیا ہوتا، مجھے میری سلیبس کی کتاب کے چند الفاظ کے ساتھ ساتھ میرے اپنے معاشرے کی مثالوں سے سمجھایا نہ ہوتا، اگر میرے ٹیچر نے مجھے اس بات کا احسا س کہ ایک تربیت یافتہ انسان بنو گے تو معاشرے میں تمہاری عزت ہو گی،ہاں پھر اگر میرے ٹیچر نے مجھے انصاف اور اقدار کا درس نہ دیا ہوتا ، رشوت ، لالچ اور بے انصافی سے نفرت کا پہلو میرے اندر اجاگر نہ کیا ہوتا، تو قارئین اکرام بتائیں کیا میں یا آپ ایک اچھے انسان بن سکتے تھے۔۔؟نہیں۔ کیونکہ خالق کائنات نے انسان کو عقل دینے کے بعد اقرا یعنی پڑھنے کا درس دیا اور اس کے استاد کے درجات کو بہت بلند کر دیا گیا ۔چنانچہ تعلیمی ادارے جن کا مقصد تربیت کے بجائے تعلیم ڈگریاں دینا ہے ہی آج کے اس پاکستانی معاشرے کے بگاڑ کا باعث بنے ہیں اور بنتے رہیں گے ۔

            یہ محض خوش فہمی ہے کہ ایک پڑھا لکھا پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ ہے مگر تعلیم یافتہ تو شاہدہو ۔۔!مگر تربیت یافتہ نہیں ہے۔کونسی ایسی غیر اخلاقی یا گناﺅنی حرکات ہیں جو آج کے اس پاکستانی معاشرے میں موجود نہیں ہیں اور ہمارے انتظامی ادارے اور تعلیمی ادارے اس سلسلے میں کوئی واضع پالیسی تک بنانے سے قاصر ہیں ۔۔میں نے کہا کہ وہ بھی اس فرسودہ نظام کا حصہ ہیں اور وہ خود اس معاشرتی بگاڑ کے ذمہ دار ہیں ۔میں کچھ تلخ نہیں بلکہ حقیقت کہہ رہا ہوں۔اور یہ بات جان لیں قارئین کرام ذلت و پستی کے جس ڈگر پر ہم چل پڑے ہیں اگر آ ج تعلیمی اداروں نے اپنا رول پلے نہ کیا تو ہمارا مستقبل کیا ہو گا میں اس بارے میں لکھنے سے بلکہ سوچنے بھی کانپ جاتا ہوں ۔۔اپنی ٹیلی ویژن سکرین پر نیوز چینل کی ہیڈ لائن نیوز پڑھتے ہوئے جن غیر اخلاقی اور شرمناک خبروں کا ہم روزانہ نظارہ کرتے ہیں کیا اب بھی ہم تہذیب یافتہ یا تعلیم یافتہ قوم کے دعوے دارہیں ۔کچھ لوگ کہیں گے یہ تو ایک مخصوص طبقہ ہے ۔۔اچھا مان لیا تو کیا ان کو کھلی چٹھی دی جائے۔ کیا یہ تعلیمی ادارے صرف کتابی کیڑے پیدا کررہے ہیں ہماری یونیورسٹیاں آگاہی پروگرام تو شروع کرسکتی ہے ۔مگر نہیں کیونکہ میں نے کہا نا کہ سب اس فرسودہ نظام کا حصہ ہیں ۔

            مجھے حیرت تو ان افرا دپہ ہے جو اپنے آپ کو اعلیٰ تعلیم یافتہ کہتے ہیں لیکن ہمارے ہی ملک میں تعلیمی ناہمواریوں کا نوٹس آج تک کسی نے نہیں لیا ۔ اگر آج بھی ہم ایک بہتر تعلیمی نظام اور اعلیٰ میعار کے تعلیمی ادارے بنانے میں کامیاب ہو جائیں تو یقین مانیں قارئین اکرام اس کا پھل ہمیں اگلے دس سے بیس سالوں میں ضرور ملے گا۔

            انہی اداروں میں تعلیم کے معیار کا یہ حال ہے کہ ایک ماسٹر ڈگری ہولڈر سٹوڈنٹ بھی سب سے پہلے تو ابھی تک اپنے اندر اعتماد پید ا نہیں کر سکا ہوتا ، پھر اس کی قابلیت کا یہ حال کہ وہ اپنی ہی فیلڈ میں کوئی خاص پیشہ وارانہ صلاحیت تک نہیں رکھتا ۔ اور پھر ناکامی کے باعث کسی نہ کسی معاشی بگاڑ یا برائی میں مبتلا بھی ہوجاتا ہے ، یہاں بھی یہ تعلیمی ادارے ہی ملوث ہیں، جو ایک سٹوڈنٹ میں خود اعتمادی تک پید ا نہیں کر سکے لیکن ماسٹر ڈگری تھما دی ہے ، یعنی تربیت نہیں کر سکے اس کو یہ احسا س نہیں دلا سکے کہ تم معاشرے کے اہم رکن ہو تم ایک فرد ہو اور تم اپنی قوم کی تقد یر تک بدل سکتے ہو۔

            ان تما م ترخرابیوں کے باعث میرا یہ کہنا کہ معاشرتی بگاڑ کا سارا کا سارا کریڈٹ تعلیمی اداروں اور نظام تعلیم کو جاتا ہے قارئین کرام بالکل بجا ہے ۔یہ تعلیم یافتہ لوگ ہی ہیں جو ان اداروں سے ڈگریاں لے کر تو آگئے ہیں لیکن سیرت و کردار کی ڈگریاں ان اداروں نے انہیں نہیں دیں ۔جس کی وجہ سے ان کے ضمیر مردہ ہو گے ۔ اپنی تربیت کے عمل کے دوران انہیں وہ درس نہیں دیے جا سکے جو معاشرے کی بہتری کے لیے ضروری تھے۔ہم نے کتابوں کو رٹ کر ڈگریاں تو حاصل کر لیں،لیکن افسوس کے ان ڈگریوں نے ہم سے ہمارے ضمیر تک کو چھین لیا۔ ہم درندہ صفت تعلیم یافتہ بن گے ۔ہمیں جھوٹ، رشوت ، لالچ، اقربا پروری، سفارش، بے انصافی ، میرٹ کی پامالی سے کچھ فرق نہیں پڑھتا ۔ لیکن یہ تما م تر برائیاں کو ن لوگ کر رہے ہیں ۔۔جی ہاںیہ تعلیم یافتہ لوگ ہی ہیں۔۔ چاہے وہ میڈیا کا پارٹ ہیں چاہے وہ درس و تدریس سے منسلک ہیں اور چاہے وہ حکومتی ادارے ہی کیوں نہ ہوں۔ہمارے ضمیر برائی کو برائی جاننے تک سے ناآشنا ہیں اور یہ آشنائی ہمیں دینا تھی ان تعلیمی اداروں نے جن سے ہم نے اپنی ڈگریاں مکمل کیں۔اور آج ہم معاشی ناہمواری کا رونا رو رہے ہیں۔

تحریر۔محمد نوید