نبی محمد ﷺ کی شان تو یہ ہے کہ۔۔

نبی محمد ﷺ کی شان تو یہ ہے کہ۔۔

 جب پوری دنیا اور خصوصاً عرب کے لوگ جہالت گمراہی اور تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے، ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے اور شرک و کفر میں حد سے گزر گئے تھے تو انہی حالات میں ملک عرب سے ایک روشنی اور علم کا سورج نمودار ہوا اس سورج کے طلوع ہوتے ہی ایک نور چھا گیا جہالت ختم ہو گئی اور وہی لوگ جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ایک دوسرے کے محافظ بن گئے ، عرب کے لوگ جو اپنی بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے انکی عصمت کے محافظ بن گے۔ اسلام نے عورت کو بیٹی ، بیوی ، ماں ، بہن کا مقدس رشتہ عطا کیا اور انکی عزت کے تحفظ کو مذہبی فریضہ قراردیا ۔

حضر ت محمدﷺ عرب کی سر زمین پر ایک روشن آفتاب کی طرح چمکے اور آپﷺ کا نور ہدایت عرب پر چھا گیا اور جہالت و تاریکیوں کے تمام چراغ گل ہو گے ۔آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لےے راہ ہدایت ثابت ہوا۔ زندگی کا کوئی بھی پہلو نہیں جس میں حضورﷺ کی زندگی ہمیں روشنی کا مینار نظر نہ آتی ہو۔ حضورﷺ نے اعلانِ نبوت سے پہلی چالیس سالہ زندگی میں لوگوں کے سامنے عمدہ سےسیرت و کردار کا وہ نمونہ پیش کیا کہ جسکی بدولت غیر مسلم بھی آپﷺ کو صادق و امین کے لقب سے پکارنے لگے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے لوگوں کو توحید کی دعوت دی، وہی لوگ جو آپکو صادق و امین کہہ کر پکارتے تھے اب آپ کے دشمن ہو گے اور آپ کے دوسرے القاب سے یاد رکرنے لگے اور انہی کافروں کی یہ روش آج بھی زندہ ہے لیکن وہ پہلے کی طرح آج بھی ناکام و نامراد ہیں اور ہوتے رہیں گے ۔ لیکن آپﷺ پائے استقامت سے نہ ڈگمگائے اور آپﷺ نے سیرت و کردار کا وہ عملی نمونہ پیش کیا کہ کفرکے بڑے بڑے سردار بھی آپﷺ کے سامنے ٹھہر نہ سکے ۔

بقول شاعر:

میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سر فرازی

میں اسی لے مسلماں ہوں اسی لیے نمازی۔

حضو رﷺ کائنات کے ایک عظیم مصلح تھے آپ نے کا ئنات کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔ آپﷺ نے اپنی زندگی کے 63 برس میں کوئی لمہ بھی اللہ کی یاد سے غافل ہوکر نہیں گزارا۔ آپﷺ نے سب سے پہلے اپنے کردار سے ایک چیز کو ثابت کیا پھر لوگوں کو اس پر عمل کرنے کی نصیحت کی ۔ اور صحابہ اکرام ؓ نے بھی آپکی آواز پر لبیک کہا۔ اس طرح سنت نبوی ﷺ کی پیروی کی صورت میں اللہ سحان و تعالیٰ نے مسلمانوں کے پوری دنیا پر غلبہ عطا کیا ۔ لیکن جب مسلمانوں نے اللہ کے نبیﷺ کے سیرت کو پس پشت ڈال دیا ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن گئی۔ اور کافروں کو اسلام اور محمد ﷺ کی سیرت پر توہین کرنے کی ناپاک جسارت بھی ہونے لگی۔

چنانچہ آج مسلمان پوری دنیا میں کچلے ہوئے ہیں ،آج پوری دنیا میں مسلمان کا جو حال ہے اسکی اصل وجہ سنت نبوی ﷺ کو ترک کرنا ہے ۔ آج ہم نے نبی کریم ﷺ کی سیرت کو اپنی عملی زندگی سے نکال دیا جس کی وجہ سے آج ملعون یہودی اور عیسائیوں کی یہ جرات ہو گئی کہ وہ نبی محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے لگے ۔ اگر ہم آج اللہ کے نبی ﷺ کی سیرت کو مکمل نافذ کیے

ہوتے تو کسی کی ہمت نہیں تھی ۔ ہم نے اب بھی کفر کی عیاری کو نہ سمجھا تو کب سمجھیں گے۔ پوری مسلم امہ کی قیادت اس معاملے میں ایک سخت جملہ تک نہ کہہ سکی ۔۵۵ اسلامی ریاستوں کے حکمران لیکن انہوں نے بزدلی کی انتہا کر دی۔اور اکثر ممالک میں تو احتجاج تک نہیں کیا۔ آج ہم نے اپنے عمل سے ، کردار سے قول سے اور اقرا ر سے اللہ کی بنی ﷺ کی سیرت کا مظاہرہ کرنا ہے تا کہ کفر کو معلوم ہو کہ مسلمانوں میں غیرت موجو د ہے۔اور غیور مسلم امہ اور مسلمانان پاکستان اس کا واضع ثبوت دیں ۔ دنیا کوآزادی اظہا رکی حدود واضع کرنا ہوں گی۔ اور اسلام اور شان محمدﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے لیے انٹرنیشنل قانون وضع کیا جائے جو کہ صرف سزائے موت ہے صرف سزائے موت۔

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے ہم تےرے ہیں ۔

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اللہ کے نبی ﷺ کی سیرت کا عنوان اتنا وسیع ہے کہ اس پر جتنا بولا جائے وہ کم ہے ۔ آپ ﷺ کی صداقت اور عمدہ اخلاق کی گواہی اللہ تعالیٰ نے خود دی ہے

و انک لعلیٰ خلق عظیم: بے شک آپﷺ اخلاق کے اعلی ٰ ترین مرتبے پر فائز ہیں۔

حضو ر ﷺ کی سیرت حسنہ کے بارے میں ایک عیسائی محقق نے اپنی کتاب (بہترین سو ہستیاں) میں دنیا کی معزذ ترین ہستی حضور اکرم ﷺ کو ٹاپ آف دا لسٹ لکھا۔ یہی وہ کردار ہے کہ آج بھی کفر کے بڑے بڑے سکالرز حضورﷺ سے متاثر ہیں۔

الغر ض نبی اکرم جناب محمد ﷺ کی زندگی ایک شمع ہدایت ہے ، تلاش حق کی اک داستاں ہے، صبر و استقلال کی اک مثال ہے، موتیوں کی ایک مان ہے، آپﷺ کا ہر عمل ہر رنگ پھولوں سے معطر ایک گلستان ہے۔ آپ کا ہر عمل حق کی پہچان ہے، ایمان کی جان ہے، او ر اس پر عمل پیرا ہونا مومن کی شان ہے۔

تحریر ۔محمد نوید