Nadeem Ahmad Awan

اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی مخلوق کی صفات کے ساتھ ساتھ اس کے کچھ جبلی حقائق کا ذکر بھی کیا ہے۔ کہیں ’’انسان خسارے میں ہے‘‘

کے الفاظ کہہ کر متنبہ کیا۔۔۔کہیں مال و دولت اور اولاد کو فتنہ قرار دیا۔۔۔ اور کہیں

ارشاد ہوا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے قربانی اور ایثار میں حریص ہیں۔۔۔ اُنہیں اپنی ضروریات کی پرواہ نہیں مگر دوسرے ضرورت مند بھائیوں

کے بارے اُن کے دل میں نہ تنگی ہے اور نہ بوجھ محسوس کرتے ہیں۔ ارشاد فرمایا:

’’اور یہ اپنے سینوں میں اُس (مال) کی نسبت کوئی طلب (یا تنگی) نہیں پاتے جو اُن (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے اور اپنی جانوں پر انہیں ترجیح

دیتے ہیں اگرچہ خود اِنہیں شدید حاجت ہی ہو، اور جو شخص اپنے نفس کے بُخل سے بچالیا

گیا پس وہی لوگ ہی با مراد و کامیاب ہیں۔‘‘

یہ ہے اسلامی تعلیمات اور ایثار و قربانی کی اعلیٰ مثال جو کہ صاف اور واضح الفاظ میں ہمیں درج ذیل نقاط پر مشتمل لائحہ عمل دے رہی ہے۔

اپنی ضروریات اور آرام کی طرح دوسروں کا خیال رکھنا۔-

اپنے مال میں ضرورت مند لوگوں کو حقدار جاننا۔-

ضرورت مند اور معذور لوگوں کو اپنا مال دیتے وقت تنگی رزق کے خوف سے بے نیاز ہونا۔-

ضرورت مند لوگوں پر اپنا مال خرچ کرنے میں پہل کرنا اور دوسرے لوگوں کو بھی ترغیب دینا۔-

جب مسائل اور الجھائو کی بات ہو تو ایک لامتناہی فہرست سامنے آجاتی ہے۔ یقینا زمانہ حال جائز اور مثبت امور کو انجام پانے کے سلسلہ میں

مشکلات و مسائل کا نہ ختم ہونے والا دور ہے مگر اس کے باوجود عمل مسلسل ، جدوجہد اور

سچی لگن کامیابی سے ہمکنار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ خصوصی افراد کی بحالی، ان کے علاج معالجے اور تعلیم و تربیت کے میدان

میں رکاوٹیں ہیں جن کے بارے غور و خوض کرکے عملی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت

ہے۔ والدین کی عدم توجہی اور غیر موافق معاشرتی ماحول کی وجہ سے جسمانی نقص کی تشخیص اور علاج کی طرف غور کرنے کی بجائے معاملات کو

چھپانے کی ترکیب نکالی جاتی ہے۔ اس طرز عمل اور سوچ کا خاتمہ ضروری ہے۔ بحیثیت

مسلمان اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے علاج کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔

ان افراد کو معاشرے میں ایک مضبوط حیثیت دلوانے کے لئے ضروری ہے کہ تعلیمی میدان میں ان کی کیریئر کونسلنگ کی جائے۔ ان کے لئے

ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹرز قائم کئے جائیں تاکہ یہ کسی دوسرے کے محتاج نہ ہوں۔ نیز

ان کی تربیت اور علاج معالجہ کے لئے بہترین ادارے قائم کئے جائیں۔

خلاصہ کلام

دورِ حاضر میں ہم مسلمان اور مومن بھی کہلوائیں اور اللہ کے بندوں سے نفرت بھی کریں۔۔۔ زبانیں حمد و نعت سے مزیّن ہوں اور ان پر طعنے اور

گالیاں بھی رہیں۔۔۔ رب کو راضی کرنے کا دعویٰ بھی ہو، اُس کے بندوں کو ستائیں

بھی۔۔۔ لوگ ہماری عزت ہمارے شر کے خوف (Nuisance Value)سے کریں۔ ایسے کردار کے حامل لوگوں کے بارے سرکارِ مدینہ

صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہماری رہنمائی اور آخرت کی بہتری کے لیے کافی و شافی ہے:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے لیے اتنی برائی ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔‘‘

لہذا ہمیں اپنے روز مرہ معمولات میں معذور افراد کی بھلائی اور معاونت کے لئے کوئی نہ کوئی قدم ضرور اٹھاتے رہنا چاہئے اور انہیں معاشرہ کا عضو

معطل سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

اصلاح معاشرہ (اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح)

تحریر۔ندیم احمد اعوان۔

Leave a Reply