Nadeem Ahmad Awan

معاشرے کیلئے اپنا حصہ

اس کا انداز بہت تجسس بھرا تھا الفاظ میں شدت اور بولنے میں بھی بہت تیزی تھی۔ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعداس نے ایک انوکھا سوال

میرے سامنے رکھ دیا ۔” سرآپ کیا کرنا چاہتے ہیں ؟” میں نے بھی  بے پراوئی سے کہا کچھ خاص نہیں وہ دوبارہ بہت جلدی میں  بولا! نہیں سر کچھ

تو ہے کہ کبھی آپاپنے کالموںمیں کامیابی کے سربستہ راز بتانے لگتے ہیں کبھی اخلاقیات کو نئے انداز میں بیان کرتے ہیں اور کسی دن تقتقدیر ساز

فیصلے کرنے پر مجبور کر رہے ہوتے ہیں یہ سب آپ کیوں لکھ رہے ہیں ؟ میں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس سے یہ سوال پوچھا کہ

آپ مجھ تک کیسے پہنچ پائے؟ حالانکہ آپ تو میرے شاگرد نہیں ۔وہ فورابولا کہ سرآپ کے کالم پڑھنے کی وجہ سے۔کیونکہ میں یو نیورسٹی میں پڑھتا

ہوں تو وہاں آپ کے کئی شاگردآپ کے کالم کی فوٹو کاپیاں بانٹتے ہیں۔جو مجھ تک پہنچ  گئیں۔آپ کی تحریر و تصویر مجھے بہت متاثر کن لگیں۔

کیونکہ زندگی میں پہلی بار ایسا دیکھنے کو ملا کہ ایک ایسا شخص جس کو ہمارے معاشرے کا ہر فرد معذور کہتا ہے۔اور میں ہمیشہ معذور افراد کو سڑکوں پر

بھیک مانگتے دیکھا تھا۔اس لیئے آپ کو ملنے کو جی چاہا اور میں چلا آیا ۔میں نے کہاکہ یہ باتیں اور یہ راز آپ تک پہنچانےکیلئے ہی تو میں انہیں

اپنے کالموں میں شامل کر رہا ہوں۔وہ جنونی انداز میں بولا۔مگر سریہ باتیں ہماری قوم کو کہاں سدھاریں گی؟

ہمارے ہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔یہاں تو انقلاب آنا ہی چاہیئے۔کیونکہ انقلاب ہی اس قوم کا علاج ہے۔نوجوان کی دلیل بڑی وواضح  اور جذبات سے بھری ہوئی تھی۔

میں نے چند لمحوں کا وقفہ لیااور اپنی سوچ کے دھارے کو اس نوجوان کی نا امیدی دور کرنے پر راغب کیا ۔اب مجھے بولنے میں جلدی بھی تھی اور جذبات

میں شدت بھی تھی۔کیونکہ مجھےاس نوجوان کی برین واشنگ کرنی تھی۔آخر میں نے سکوت توڑا اور بولا!!! بیٹا۔ کہتے ہیں جنگل میں آگ لگ گئی

اور اتنی خوفناک آگ کو دیکھتے ہی سب جانور  جنگل سے باہر بھاگ گئے۔جنگل کے ایک درخت پر چڑیا کا گھونسلا تھا چڑیا نے جب آگ کے بڑھکتے

ہوئے شعلوں کو دیکھا تو وہ فورا اڑی اور جنگل کے پاس موجود ندی کے کنارے  پہنچی۔اس نے اپنی چونچ میں چند بھوندیں پانی کی بھریں اور جنگل

کی آگ پر پھینکنی شروع کیں۔یہ عمل اس نے کئی بار دہرایا اسی دوران جنگل کے بادشاہ شیر کی نظر چڑیا پر پڑھ گئی۔شیر بولا! کہ اے چڑیا ، تیری چند

بوندیں پانی کی کہاں جنگل کی اس آگ کو بجھائیں گی؟ جڑیا نے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ کا یہ سوال اتنا اہم نہیں کہ یہ چند بوندیں کہاں جنگل کی آگ 

کو بوجھائیں گی۔بلکہ سوال اس بادشاہ کل کائنات کا اہم ہو گا جو مجھ سے آخرت کے روزپوچھے گاکہ اے چڑیا جب پورا جنگل آگ سے جھلس رہا تھا تو

تو نے اس جنگل کی آگ کو بجھانے کیلئے کیا کیا ؟ تب میں انتتہائی ادب و احترام سے اپنے رب کو بتا سکوں گی کہ اے مالک کل کائنات!!! جب

جنگل جل رہا تھا تو میں نے اسے بچانے کیلئے اپنی حیثیت کے مطابق چند بوندیں پانی کی پھینکیں تھیں۔اور میرا مالک خوشہو کر فقط اتنا کہہ دے گا

کہ جا چڑیا آج میں رجھ سے رازی ہوا ۔سو بیٹا۔میں اس چڑیا کی مانند اپنا حصہ ڈال رہا ہوں۔تا کہ جب آخرت کےروز حساب و کتاب کی باری آئےاور

مجھ سے پوچھا جائے کہ ہم نے تمہیں قلم کی سیاہی سے روشنی پھیلانے کی طاقت دی اور تیری آواز کو دوسروں تک پہنچانے کے قابل بنایا تو بتا۔تو

نے اس سے کیا کیا ؟ اس وقت میں اپنی حقیر سی کوشش پیش خدمت کر دوں گا اور میرا مالک اتنا غفور و رحیم ہے کہ وہ چڑیا کی چند بوندوں کی مانند

میری اس حقیر کاؤش کو بھی قبول کر لے گا ۔

قارئین کرام بات ہار جیت کی نہیں ہوتی۔بات فقط قبول ہونے کی ہوتی ہے۔خدا اگر چڑیا کے بچے کو ہمت دے تووہ شہباز کی آنکھیں پھاڑ دیتا ہ

ے ۔وہ چاہے تو فقط ایک تنکاکسی بڑے صاحب بینا کی بینائی چھین سکتا ہے ۔مالک کل کائنات تو ایک حقیر سے مچھر کی مدد سے نمرود جیسے

شہنشاہ کو ذلت کی موت دے سکتا ہے اور وہ اپنی  حکمت دکھانے پر آئے تؤکمزور مکڑیکے جالے کی مدد سے اپنے محبوب ، جو وجہ تخلیق کائنات

ہیں۔کو حفاظت فراہم کر سکتا ہے کیا پتہ کسی کی عبادت گزار کی تکبر والی عبادت قبول نہ ہواور کسی گنہگار کی عاجزی و ندامتکے دو آنسو بھلے لگیںاور وہ

اسے بخش دے۔” سچا امانتدارتاجر( آخرت کے روز) انبیاء۔صدیقین اور شہداء کی صف میں کھڑا ہو گا ۔( حدیث نبوی )۔

بیٹا۔ کیا معلوم کہ میری یہ چھوٹی سی کاؤش کسی کو کل امانت ددرتاجر بنا دےاور جب وہ ان عظمت والوالے لوگوں کی صف میں کھڑا ہو تو وہ باری

تعالیٰ سے کہہ دے کہ ” مجھے امانت دار تاجر بنانے والاذریعہ فلاں شخص کی تحریر تھی میرے مالک اس کو بھی اسی صف میں لا کھڑا کر دے”۔ اور

اسی وقت شاید مجھے میری کوشش کا صلہ مل جائے ۔یہ بات اہم نہیں  کہ کسی عمل کا نتیجہ فورا کیا ہے اور کتنا  مشہور و مقبول ہو جاتا ہے بات دہم یہ

ہے کہ اس ومل کی نیت کیا ہے ۔اگر نیت صاف ہے تو مالک نے عمل سے پہلے نیت کو دیکھتے ہوئے اس کا اجر دے دینا ہے ۔

اس لیئے آج ہمارا ملک مصائب کا شکار ہوا ہے  کہ دکھیئے !!! کہ کون اپنی حیثیت کے اور بساط کے مطابق اس کی بہتری کیلئے اپنا حصہ ڈال رہا ہے

یہ حصہ ہم کسی ہم وطن کیلئے دعا کرنے سے بھی ڈالا جا سکتا ہے یہ حصہ اپنی تحریر کی مدد سے بھی ہو سکتا ہے اور اپنی تقریر  کی مدد سے بھی ۔اللہ

تعالیٰ کے نبی نے دعا فرمائی کہ خدا اس شخص کو آباد رکھے جو میری بات کو سنے اورآگے پہنچائے۔اس لیئے اچھی بات کو آگے منتقل کرنا بھی

عبادت ہے نا امیدی کے دور میںامید بانٹ دینا بھی اپنا حصہ ڈال دینے کے مترادف ہے ۔ ناامیدی ویسے بھی کفر ہےاس لیئے بیٹا۔جو ہو سکتا

ہے آپ بھی کیجئے ۔

اللہ تعالیٰ کیلئے ۔اس کے نبی کیلئے اس ملک کیلئے اپنی آنے والی نسلوں کی بہتری اور خوشحالی کیلئے بلخصوص اس طبقہ کیلئے جس کو آج ہمارے

معاشرے کا ہر فرد حقارت کی نظر سے دیکھ رہا ہے یاد رکھیئے صلاحیتیں ہرفرد کے اندر موجود ہوتی ہیں ان کو نکھارنے کیلئے اپنے جذبات کو جنجھوڑنا پڑتا

ہے۔اور یہ حصہ آپ کسی کے درد کو محسوس کر کے دو آنسو بہا دینے سے بھی ادا کر سکتے ہیں کیا پتہ وہی دو آنسو آپ کی بخشش کا موجب بن جائیں۔

تحریر ۔ندیم احمد اعوان ۔

عنوان۔ معاشرے کیلئے اپنا حصہ ۔

Leave a Reply