جموریت نے ہمیں کیا دیا

جموریت نے ہمیں کیا دیا

جموریت کے پھل إ

            کم و بیش پوری دنیا کے ممالک میں ایک ہی چیز کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے،نمائندگی، وزارت، سینٹ ، اسٹیٹ کونسل، مقننہ یا انتظامیہ۔ موجوہ سسٹم نے ہر ریاست کے جسم میں ایک ایسا زہر گھول دیاجس سے اس کا سارا کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا ہے،آپ دیکھیں کے ہر ریاست جھکڑی ہو ئی ہے ایسا لگتا ہے کہ ایک زہر ملک کی جڑوں میں سرائیت کر گیا ہے ، برائے نام حق ووٹ جس میں تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ سب برابر اہیں ووٹ کا حق سب کو دیاگیا ہے آپ نے کھبی غور کیا کہ کیا ایک ان پڑھ بہتر فیصلہ کر سکتا ہے یا پڑھا لکھا ۔۔؟پھر جس ملک میں غیر تعلیم یافتہ افراد کی کمی ہو تو وہ کیسے لیڈر منتخب کریں گے جس کی مثال آپ کے سامنے ہے۔۔

            پھراسی سسٹم میں آپ کو وہ لوگ بھی ملیں گے جوطاقت کے سامنے تو اپنی ناک رگڑتے ہیں لیکن کمزورں کے ساتھ بے رحمی سے پیش آتے ہیں۔کسی غلطی کو معاف نہیں کرتے لیکن خود بھی جرائم کی حوصلہ افزائی اپنے کردار و عمل سے کرتے ہیں۔ اوراسی سسٹم کا حصہ ہیں کچھ لوگ جواپنے شہیدوں پرتو صبر کر لیتے ہیں ۔۔!لیکن ظلم و بربریت کے سامنے گھٹنے ٹیکے رہتے ہیں۔چنانچہ میری نظر  میں اسی سسٹم نے معاشی بقا کی جنگ میں ایسے گروہوں کو وجود میں لایا ہے جو انسانی جذبات سے عاری،بے رحم اور بے ضمیر ہیں ، دوسروں کو تو صبر کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں لیکن خود طاقت کے بل بوتے پر فوری انتقام لے لیتے ہیں ۔

            میں نے یہ بھی دیکھا کہ نام نہادموجودہ آئینی حکومتیں جو نفرتوں، غلط فہمیوں، محرومیوں، لڑائی جگڑا، فتنہ و فساد، ظلم و بربریت،اختلاف رائے، احتجاج اور جماعتوں کی انا پسندی کے نتیجے میں وجود میں آتی ہیں۔۔۔!،آزادی ، مساوات اور حق رائے دہی کے نام نہاد نعروں نے دنیا سے سکون اور برکات کو چھین لیا، بادشاہت کے نظام کا قتل کیا۔۔ا اور پھر ایک نہی اصطلاح متعارف کرائی جسے صد ر کا نام دیا گیاجسے عوام خود منتخب کرتے ہیں اوردر اصل یہ بھی اسی جموری سسٹم کی کٹھ پتلیوں کا ایک حصہ ہے۔

جموریت نے ہمیں کیا دیا

             میں تو کہوں گا کہ اگر مذہب کو انسانوں کی زندگی سے نکال دیا جائے تو پھر انسان درندہ بن جاتا ہے ۔چنانچہ جس ملک میں مذہب کمزو ر پڑ جاتا ہے وہاں قتل ، چوری،کشت و خون،جھوٹ، فریب، رشوت، بے انصافی،انا و خود پسندی،بد تمیزیاں اور سماجی برائیاں عام ہو جاتی ہیں ۔ میں اپنے ملک ہی کی بات کروں گا ۔ ان نام نہاد جمہوری قدروں نے ہمیں کیا دیا ہے آزادی و انصاف کے جھوٹے نعرے ، نام نہاد ووٹ کا حق۔ چنانچہ جمورعیت ہی انسانیت کی سب سے بڑی دشمن بن گئی ۔اس قو م کو کیا ہو گیا کہ گزشتہ 70سال سے ایک ہی نظام کو بار بار تمام تر برائیوں کے ساتھ پھر سے آزما نے چل پڑتے ہیں تھوڑا چینج لانے کی کوشش تو کریں کچھ سو چیں ، کچھ سمجھیں اور بھی بہت سے نظام ہیں ذرا ان کی طرف پلٹ کر تو دیکھیں شاید ہمیں ہمارے مسائل کا حل مل جائے ، کیا انقلاب جمورعیت ہی کا نام ہے ۔۔!اصل انقلاب تو تب آئے گا جب آ پ اس سسٹم کو بدل دیں گے، افراد کو نہیں۔۔۔! ہمارے ہاں چہرے بدلتے ہیں اور پھر اسی سسٹم کا حصہ بن جاتے ہیں۔

جموریت نے ہمیں کیا دیا

            آج جب کے اسلام اور رہبر انسانیت محمد صل اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھنے والے کھل کر سامنے آ رہے ہیں ان حالات میں ایک مسلمان مملکت کے افراد کے لیے اور بھی ضروری ہے کہ ہم ان عالمی قوتوں کے اس فرسودہ سسٹم تک کویا تو صاف و شفاف کریں کریں ،یا پھر ملک سے نکال باہر کر دیں۔ جس نے ہمیں صرف محرومیاں دیں ہیں، ہمارے اوپر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لیبل لگائے گئے ،یعنی طاقت کے سامنے ہم اپنی آواز تک بلند نہ کریں اور اگر بلند کریں یا پھر پتھروں سے مقابلہ کریں تو دہشت گرد اور انتہا پسند۔ کون لڑے گا ہمارے انصاف کی جنگ۔۔؟حالات تو یہ ہیں کہ اپنے ملک میں بھی آج کا پاکستانی شہری محفوظ نہیں۔۔۔کوئی حکومت جو عام شہری کی جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری نہیں نبا ہ سکتی آپ پھر اس نظام اورقیادت سے کیا توقع کرتے ہیں۔۔۔کیا یہ انقلاب لائیں گے؟ کھبی نہیں۔۔۔یہ اپنے مفادات کے لیے عوام کو استعمال کرتے ہیں اور پھر بیرون ملک جا کر عیش و عشرت کی زندگیاں گزارتے ہیں تمام تر مثالیں آپ کے سامنے موجود ہیں۔۔

             یہی نظام جس نے ہم سے غیرت اور قدروں کو چھین لیا ، جس نظام نے آج کے نوجوان کو سوائے مایوسی اور بے روزگاری کے کچھ نہیں دیا،اور کچھ اسی نظام کے چاہنے والے ظالموں نے تو کالج کے سٹوڈنٹ سے کتاب تک چھین کر غنڈہ گردی اور سیاست کے نام نہاد مزین نعروں میں بھی مگن کیا ہوا ہے ۔۔!جو خود تو تباہ ہو گیا لیکن اپنے کالج کا سکھ چین بھی چھین لیا۔۔ حیران ہوتا ہوں میں دو یا چارایسے سٹوڈنٹ سینکڑوں دوسرے سٹوڈنٹس کو یر غمال بنا کر پورے شہر میں نعرہ بازی کرتے ہیں اور کسی نہ کسی سیاسی لیڈر کے گن گاتے ہیں جس نے آج تک اس نوجوان کو صرف سنہرے خواب دیے ہیں باقی کچھ نہیں۔۔۔ہاں اگر اس نظام نے کچھ دیا ہے تو انہیں جاگیر داروں کو ایک بہتر مسقبل دیا ہے جو پاکستان کے بنتے ہی ہمارے اوپر مسلط کر دیے گے تھے اور نہ جانے کب تک رہیں گے۔

IMPORTANCE OF RELIGIOUS EDUCATION

            بنی صل اللہ علیہ وسلماور اسلام کے بارے میں پروپیگینڈہ کرنے والوں نے مجھے بھی مجبور کیا کہ میں نبی صل اللہ علیہ وسلم صل اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پھر سے پڑھوں، مجھے مجبور کیا کہ میں آج کےبنائے ہوئے باطل نظام سے نفرت کروں ، مجھے تاریخ اسلام پڑھنے پر مجبور کیا ۔ ہاں میں ہی نہیں بلکہ میرے اس ملک کے تمام سٹوڈنٹس جو یونیورسٹیوں اور کالجز کی تعلیم پر پوری توجہ دے رہے تھے انہیں بھی یہ باور کروایا کہ نبی صل اللہ علیہ وسلم صل اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور تاریخ اسلام بھی تمہارے بھولے ہوئے سبق ہیں انہیں پھر سے یاد کر لو۔۔۔درد اسی کو ہوا ہے جو نبی صل اللہ علیہ وسلم کی سیرت جانتا ہے جس نے کھبی سیرت کا مطالعہ نہیں کیااسے کیا حرج ہوگا۔

            اسی نظام کی آڑ میں مسلمانوں کی خلافت کوختم کر کہ مختلف ریاستوں میں منقسم کر دیا گیا تھا۔ اپنے نظام کو آزمانے اور مسلمانوں کو کھبی متحد نہ کرنے کے لیے ۔اپنے سسٹم کی بقا کے لیے وہ کسی بھی حد سے گزرنے کو تیار ہیں اور ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کہ پھر اسی فرسودہ نظام کے رونا روتے رہتے ہیں اور اس کا حصہ بھی بنے رہتے ہیں۔ ۔

            ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عوام اپنے مفادات کی جنگ خود لڑیں اور آزمائے ہوئے لوگوں اور سسٹم کو پھر سے آزمانے کے بجائے کسی نہی راہ کی طرف بھی گامزن ہوں اور متبادل تلاش کریں ورنہ جان لیں کہ ہم طاقت کے سامنے گھٹنے ٹیکے اور اپنے شہیدوں پر روتے رہیں گے۔ ۔۔

Leave a Reply