social-media-and-islama

سوشل میڈیا، اور اسلام دشمنی

مسلمانوں اور اسلام کو ہر دور میں مختلف فتنوں اور للّکار کا سامنا رہا ہے۔ دور حاضر اور مستقبل بھی اس سے مستثنی نہیں ہے۔ اسلام دشمن  ہر دور میں نت نئے حربے اور طریقے اسلام کو بدنام کرنے اور مسلمانوں کو کمزور کرنے کےلئے استعمال کرتے ہیں۔ جدید ترقی یافتہ دور میں دشمنانِ اسلام کے ہاتھوں میں نئے زیادہ دور رس، طاقتور اور مہلک ہتھیار تھما دئیے ہیں۔ دور جدید کے ان خطرناک ہتھیاروں میں میڈیا (الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا) سب سے اہم اور مُہلک ترین ہتھیاروں میں سے ہیں۔

حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی پرآج کے موجودہ دور میں سب سے زیادہ اثرانداز ہونے والی شے کا نام “سوشل میڈیا” ہے۔ یہ اثرمثبت بھی ہے اور کافی حد تک منفی بھی۔ معلومات اورخبروں کی فراوانی ان تک باآسانی رسائی، آپس کے تیزرفتار رابطے، یہ سب ایسے پہلو ہیں کہ ان کی افادیت سے انکارنہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا میں بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جوکہ ہمارے مزاج یا ہمارے عقائد ونظریات سے متصادم ہوتی ہیں۔ متعدد بارہا سوشل میڈیا پہ ہمارے دین اسلام کیخلاف گستاخانہ مواد ویڈیوز اور تصاویر کی صورت نشر ہو رہے ہیں۔ وہ باتیں جن کو بطور مسلمان سن کر، دیکھ کر یا پڑھ کر شدید دُکھ ہوتا ہے اور دل کڑھتا ہے۔ غصہ آتا ہے۔ بے بسی کا احساس ہوتا، کبھی اسلام کے متعلق اپنے ہی لوگوں کے تبصرے سن کران لوگوں کی عقل پرماتم

کرنے کا جی چاہتا ہے، کبھی دشمنان اسلام کی کھلی سازشیں نظرآرہی ہوتی ہیں، لیکن بے بسی کے سبب اپنا خون کھولنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ سوشل میڈیا میں آنے والا کوئی بھی مواد جنگل کی آگ کی طرح آناً فاناً پھیل جاتا ہے۔ لیکن یہ آگ کی طرح جلانے کے ساتھ روشنی بھی پھیلاتی ہے۔ جس طرح آگ اگر نادان کے ہاتھ آجائے تونقصان پہنچاتی ہے۔ جبکہ سمجھدار لوگ اس سے روشنی پھیلانے اور دیگر کارآمد کام لیتے ہیں۔ اسی طرح  سوشل میڈیا پہ کم علم، جاہل، متعصب، اورناسمجھ افراد قوم، ملک اورمذہب کو اپنی لاعلمی اور کج فہمی سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پہ اسلام مخالف الزامات اور حربوں کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اسلام کا اصل پیغام لوگوں تک باآسانی نہ پہنچ سکے۔ حق کی آواز جتنی ہوسکے دب جائے، لوگ دینِ حق کے قریب نہ جائیں اور اسلام لوگوں کے ذہنوں میں ایک عجیب وغریب نظریہ بن کر رہ جائے۔ 

سوشل میڈیا پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ تقریبا 5 سال پہلے سماجی رابطوں کی مشہور ویب سائیٹ فیس بک پر اردو زبان میں کچھ ایسے فورمز (گروپس، پیجز اور اکاؤنٹس) سامنے لائے گئے جن پر اسلام کے خلاف مواد پیش کیا جاتا تھا۔ حقیقت میں یہ فورمز نظریہ اِلحاد، دَہریت، سیکولر ازم، لادینیت و ملّاں منافرت کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے تھے۔  ان فورمز پر اللہ تبارک وتعالیٰ کا انکار کیا جاتا، مذاہب کی توہین کی جاتی، مقدس کتاب قرآن مجید میں کیڑے نکالے جاتے،  نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس پر بہتان باندھے جاتے، صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم کی شان  میں گستاخیاں کی جاتی، عجیب و غریب الزامات لگائے جاتے، اسلامی تاریخ کو حد درجہ مسخ کرکے پیش کیا جاتا ، مسلمانوں کو انتہا درجے کی بُری قوم بنا کر پیش کیا جاتا رہا اور جہاد کا تصور دہشت گردانہ طور پر پیش کیا جاتا رہا لیکن مسلمان سوئے رہے، خصوصا نوجوان نسل ۔

ہم مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم گھر بیٹھے جنت کمانے کے شوقین ہیں۔ ہم  بغیر کسی محنت ومشقت کے خدا کو راضی کرنا اور بغیر عمل کے اپنی قبروں کو جنت کے باغ بنانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ہمیشہ کی طرح جذباتی مسلمانوں کی طرح ان پوسٹس پر لعنتیں اور گالیاں دیکر، اپنی طرف سے خدا کو راضی کرنے کی بھرپور کوششیں کیں جاتی رہی ہیں اور ہورہی رہیں۔

کفارِمشرکین نے بہت سے گالیوں بھرے اشعار لکھے جن میں حضور اکرم ﷺ کی توہین کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر وہ اشعار ہم تک نہیں پہنچے۔  کیوں نہیں پہنچے اس میں غور کا پہلو ہے  کیونکہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم نے وہ اشعار ہی یاد نہیں کئے اور نہ ہی آپس میں شئر کئے اس طرح سے وہ سارے اشعار فنا ہوگئے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رپا پے کہ آج کل گستاخانہ مواد پوری دنیا میں پہنچانے میں غیر مسلموں کے مقابلے میں مسلمان سبقت پاگئے ہیں اور یہاں تک کہ مسلمان سب سے زیادہ اسے پھیلانے میں سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔ غیر مسلم تو اسلام کے خلاف گستاخانہ مواد تو تیار کرتے ہیں اور یہ مواد غیر مسلم دنیا میں مقبول ہوجاتا ہے لیکن اس کے برعکس مسلمانوں کا حال تو اسی مواد کو سوشل میڈیا پر اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ پوسٹ کا ٹائٹل کچھ اس طرح دیا جاتا ہے “لکھنے یا بنانے والے پر لعنت بھیج کر آگے شئر کریں” اب کفار کا کام ختم اور مسلمانوں کا کام شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد مسلمان لعنت بھیجنے کے چکر میں ایسے شروع ہوتے ہیں کہ پوری دنیا تک گستاخانہ مواد باآسانی پہنچ جاتا ہے۔

محترم قارئین! کسی بھی قسم کا گستاخانہ مواد کوئی ایسی چیز جو آپ تک پہنچے  آپ خود اپنے ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقشِ قدم پر چلیں، بغیر دیکھے بغیر کسی کو شئر کئے فورا اسے ڈیلیٹ کردیں اگر ڈیلیٹ کا آپشن موجود نہ ہو تو اسے رپورٹ ضرور کیا کریں۔

Leave a Reply