مقصد کی تلاش

مقصد کی تلاش

جب تک انسان اپنی زندگی کے مقصد کے تلاش میں رہتا ہے وہ بہت سارے اندیشوں اور خطروں سے نبرد آزما رہے گا، زندگی ایک بہت بڑی آزمائش ہے اسے اگر آپ اور میں یہ سمجھ کر گزاریں گے کہ بس کچھ ایسا کر دوں پھر بعد میں کچھ نہ کرنا پڑے تو یہ بھول ہے آپ کی۔ دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فہرست اگر آپ دیکھں تو اول انھیں یہ مقام حاصل کرنے میں کافی محنت اور تگ دو کرنا پڑی، پھر جب انہوں نے یہ مقام پا لیا تو اسے بر قرار رکھنے کے لیے اب انھٰں پہلے سے زیادہ وقت اور محنت کرنا پڑ رہی ہے۔

دنیا  میں اکثریت آپ کو ایسے لوگوں کی ملے گی جو زندگی کو بس گزار رہے ہیں، کسی سے پوچھیں ہاں بھائی کیسے ہو ، کیسےجا رہی ہے لائف تو جواب ملتا ہے کہ جی بس گزر رہی ہے۔انسان کی تخلیق کے عمل پر اگر آپ غور کریں   تو پتہ چلتا ہے کہ انسان مسلسل ارتقاء کے عمل سے گزرتا ہے، ماں کے پیٹ سے لے کر پیدائش، پھر بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑاھپا، اس ارتقائی عمل کے دوران انسان ہر ایک دور میں عظیم آزمائشوں سے گزرتارہتا ہے، اور اسے مستقل اپنے بقا کی جنگ خود ہی لڑنا پڑتی ہے۔ اسے لیے تو انسان سپیشل ہے۔ زندگی کے آغاز سے لے کر اختتام تک انسان کتنی ہی دفعہ موت کے منہ سے بھی نکل جاتے ہیں اور کچھ موت کے آغوش میں ابدی نیند سلا دیے جاتے ہیں۔میری زاتی رائے ہے کہ جب آپ میں زندگی کے مقصد کو حاصل کرنے کے تڑپ رہے گی ، آپ زندہ رہیں گے، جب آپ کا مقصد ختم ہو جاتا ہے تو زندگی بھی ختم ہو جاتی ہے۔

 میں یہ سمجھتا ہوں کہ انسان جب اپنے مقصد کا تعین کر لیتا ہے تو پھر اس مقصد کی تکمیل کے  لیے تگ دوو کی جانب جتنا آگے بڑھتا ہے اتنے ہی دشوار   راستے راہ میں حائل ہوتے جاتے ہیں، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ۔

مشکل راستے ہمیشہ خوبصورت وادیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔

آج کا انسان بے مقصد زندگی گزار رہا ہے، بس لگا ہوا ہے جو کام اسے مل گیا اسے میں مگن نہ ادھر کی پرواہ نہ ادھر کی بس روٹین کی زندگی ۔ میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ ہم میں اکثر لوگ عبادت بھی روٹین سمجھ کر کر رہے ہیں۔ نماز، روزہ، یا کوئی اور عبادت بس کیے جا رہے ہیں۔ یا پھر جو کام بھی کر رہے ہیں، صرف اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ لوگ بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔

ہر انسان ایک جیسا کیسے ہو سکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مختلف مقصد دے کر دنیا میں بھیجا ہے، آپ اور میں ان خوش قسمت روحوں میں سے ہیں جنہیں یہ چانس ملا ہے،کیا آپ جانتے ہیں کہ پیدائش کے عمل کے دوران آپ نے اپنے جیسے  ہزاروں کو شکست دے کر وہ دوڑ جیتی اور اس دنیا میں آنکھ کھولی، کیونکہ آپ سپیشل تھے، آپ میں کچھ کرنے کی تڑپ تھی، جو دنیا میں آ کر کسی اور ہی ڈگر پر چل دیے، آپنے مقصد کو ڈھونڈیں، کہ آخر میری اور آپ کی زندگی میں وہ کیا خاص مقصد ہے جس کی تکمیل کے لیے ہم اس دینا میں آئے ہیں، یاد رکھیں تقدیر آپ کو ضرو ر چانس دیتی ہے،مگر وہ مقصد ڈھونڈنا ہم نے خود ہے، کچھ لوگ بغیر اس مقصد کے تلاش کے مر جاتے ہیں ، اور جو مقصد ڈھونڈ لیتے ہیں پھر اس کی تکمیل کر کہ اس دنیا سے جاتے ہیں تو وہ ٹرینڈ سیٹر یا ہیروز بنتے ہیں وہ عظیم لوگ کہلاتے ہیں ۔ جنہیں دینا ہیروزکے طور پر جانتی ہے۔ بس مقصد کی تلاش کریں اور اسے پانے کے لیے لگ جائیں

بچپن میں تعلیم کی روٹین ، جوانی میں بھی تعلیم کے ساتھ ساتھ کچھ اور مشاغل جنہیں انٹرٹینمنٹ کا نام دیا گیا ہے، پھر شادی کرادی جاتی ہے ، پھر بس بیوی بچے کا پیٹ پالو، اور پھر کام کا بوج ، پھر جناب بوڑھے ہو گے اور پھر ایک دن فوت ہو جائیں گے۔اور مرتے وقت کتنی ہی خواہشیں لے کر قبر میں اتر جاتے ہیں۔

میں نے کہا کہ انسان سپیشل ہے مگر وہ سپیشل جو غور کرے ، ورنہ بہت سارے انسان تو بس ویسے ہی ہیں جیسے اور سارے ہیں۔

جن لوگوں نے جوانی  میں بڑے خواب دیکھے اور پھر انہیں تعبیر کرنے کی دوڑ میں لگ گے انہیں اللہ تعالیٰ نے منزل تک پہہنچا دیا۔١

خلاصہ کلام کہ اپنی زندگی کے خواب بڑے رکھیں، منزل پر نظر رکھیں، مقصد کی تلاش کی جنگ اور پھر اسے جیتنے کے لیے عزم و حوصلہ اور اسے پا کر رہنا ، تا کہ آپ بھی سپیشل اور آئیڈل انسان بنیں اور لوگ آپ کو ہیرو کی طرح یا د رکھیں۔

بقول شاعر؛

میدانِ زندگی میں گھبرا کر مٹ نہ جانا
تکمیلِ زندگی ہے چوٹوں پر چوٹ کھانا

One Reply to “مقصد کی تلاش”

Leave a Reply