مسئلہ کشمیر، شملہ معاہدہ اور وقت کا تقاضا


مسئلہ کشمیر 1947ء سے حل طلب ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور سفاکیت و بربریت کی اندوہ  ناک سات دہائیوں  پہ مشتمل ہے جبکہ  کشمیری عوام   کی جدوجہد آزادی اسی جوش وجذبہ کے ساتھ جارہ ہےجو تقسیم ہند کے وقت برصغیر کے مسلمانوں میں  موجود تھی ۔  گذشتہ سات دہائیوں سے بھارتی مظالم  سے لاکھوں کشمیری شہید جبکہ ہزاروں کی زندگیاں مفلوج ہوکر رہ گئی ہیں مگر اس کے باوجود غیور اور حریت پسند کشمیریوں کی آزادی کی تحریک پورے آب وتاب سے جاری ہے۔ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پہ عملد درآمد کرنے پہ ہرگز راضی نہیں ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور  ساتھ ہی مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے۔ کشمیر ی عوام  روزِ اول سے آزادی کی تحریک چلارہے ہیں  مگر ان تمام قربانیوں  کے باوجود مسئلہ کشمیر حل  نہیں ہورہا ۔ حقیقت میں دیکھا جائے مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی بنیادی وجوہات یہ ہیں1۔ بھارت کی ہٹ دھرمی، 2۔ عالمی طاقتوں کی نیم دلی، 3۔ اقوام متحدہ کا دوہرا معیار، 4۔ پاکستانی حکمرانوں کی غلطیوں اور  مسئلہ کشمیر سے متعلق پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان شامل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہں کہ  حکومتِ پاکستان اور پاکستانی حکمرانوں نے ہر دور میں مسئلہ کشمیر  کے حل اور عالمی  سطح پہ اجاگر کرنے کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے مگر ان کو ششو ں کو ہمیشہ ادھورا چھوڑا گیا۔

 اگر حقیقت کے تناظر میں دیکھا جائے تو 47ء  سے کشمیر باقاعدہ طور پر دو حصوں میں بٹ چکا ہے، ریاست کا وسیع وعریض رقبہ بھارت کے قبضہ میں ہے جبکہ 36 فیصد حصے پہ پاکستانی سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے۔  اور دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کے حصول کے لئے 3 جنگیں  بھی لڑی جاچکی ہیں۔  اسی طرح مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دونو ں ملکوں کے درمیان کشمیر امن پالیسی پہ معاہدے بھی کیے گئے اور 71ء میں جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا تو تو اس کے بعد دونوں ملکوں نے  2 جولائی 1972ء کو شملہ معاہدہ کی رو سے   کشمیر کی   حدود بندیاں  قائم کیں اور سیز فائر لائن کو باقاعدہ طور پہ لائن آف کنٹرول میں تبدیل  کردیا ۔  تاہم شملہ معاہدہ کے تحت یہ طے کر لیا کہ  پاکستان اور بھارت کشمیر سمیت تمام معاملات باہمی مذاکرات سے حل کریں گے ۔ یوں جب نیا معاہدہ ہوجائے تو پرانا معاہدہ ختم ہوجاتا ہے ۔ یہ ممکن نہیں کہ شملہ معاہدہ بھی رہے اور اقوام متحدہ کی قراردادیں  بھی عمل میں رہیں ۔گذشتہ برس بھارت  کی پارلیمنٹ  نے مقبوضہ  کشمیر  میں آرٹیکل 370 اور 35 اے   کو ختم  کرنے کے حوالے سے ترامیم منظور کروائیں جس کی وجہ سے مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت منسوخ کردی  تھی تو جواب میں پاکستان  کی موجودہ پارلیمنٹ  کو بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ ختم کرنے کی قرارداد  متفقہ طور پر منظور کرکے شملہ معاہدہ ختم کرنے کا اعلان  کردینا چاہیے ۔بھارتی  پارلیمنٹ کا جواب یہی بنتا ہے ۔

دو ملکوں  کے درمیان  کسی معاہدے  کی منسوخی دنیا میں کوئی پہلا یا انوکھا واقعہ نہیں ہوگا۔  ممالک معاہدے کرتے  بھی ہیں اور انہیں وقت کے ساتھ جب محسوس کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا تو اس سے نکل بھی جاتے ہیں۔ دنیا میں  ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ جس طرح بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرنے کا وہی بہترین وقت تھا ۔ اس کے بعد شائد دنیا ہمیں ایٹمی دھماکے کرنے کی اجازت نہ دیتی۔ اسی طرح بھارتی پارلیمنٹ کے اقدامات کے جواب میں پاکستان کی پارلیمنٹ کو کچھ کرنا چاہیے۔ یہی اس کا بہترین وقت ہے۔ کیونکہ ویسے بھی اس  مذموم اقدامات کو ایک سال گذر گیا ہے اب اگر دیر کی گئی تو اس کے بعد  موقع دوبارہ نہیں ملے گا۔ ماہرین قانون کے مطابق جب کسی معاہدے کی ایک شق کی خلاف ورزی ہوجائے تو اسے پورے معاہرے کے خلاف وزری تصوری کیا جاتا ہے۔ یہاں تو شملہ معاہدہ کی ہر شق کی خلاف ورزی ہوچکی ہے۔   

   حکومت پاکستان کو چاہیے کہ و ہ مسئلہ کشمیر کو سفارتی سطح پر بھرپور انداز میں اٹھانے کیلئے بیرون ممالک میں  تعینات سفارتکاروں کو خصوصی ٹاسک دے، اسلامی تعاون تنظیم  کو فعال بنائے اور مسلم اُمہ کو اس مسئلے پر  متفق کرکے موثر آواز بلند کرے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ نہ صرف قرداردادوں پہ عملددرآمد سے گریزاں ہے بلکہ وہ جانبداری کا مظاہرہ کررہا ہے، اگر اقوام متحدہ کا طرز عمل اسی طرح رہا تو اس کا  حال بھی مستقبل میں لیگ آ ف نیشنز  کی طرح ہوگا۔ مگر ان حالات میں پاکستان نے گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق دینے کیلئے  اس کو پاکستان کا پانچھواں صوبہ بنانےکےعملی اقدامات کردیے ہیں  لیکن اگر حقیقت  میں دیکھا جائے تو  ریاست جموں وکشمیر  کی تمام اکائیوں جس میں مقبوضہ کشمیر و آزادکشمیر ، گلگت بلتستان کی قسمت کا فیصلہ ایک ساتھ کیا جائے جوکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں درج ہے۔

عابدمنظور