پیدل چلیے اور جوان رہیے

چند ماہ قبل برطانیہ کی کمیبرج یونیورسٹی سے ایک دلچسپ خبر آئی۔ وہاں محققں نے یہ جائزہ لیا کہ کن کھیلوں کے کھلاڑی سب سے زیادہ تندرست و توانا ہوتے ہیں؟ اس باب میں گالف کے کھلاڑیوں نے اول نمبر پایا۔ اس کی وجہ ۔۔۔۔۔۔؟

وجہ یہ معلوم ہوئی کہ گالف کے کھلاڑیوں کو دوران کھیل بہت زیادہ چلنا پڑتا ہے۔ یہی پیدل چلنا انہیں پھر ہر لحاظ سے صحت مند رکھتا ہے۔ یہ سچائی عیاں کرتی ہے کہ پیدل چلنا صحت کے لیے بہت مفید ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ بہت کم افراد اچھے انداز سے چلتے ہیں۔ اگر آپ اپنی گلی کے نکڑ پر کھڑے ہوکر آنے جانے والوں کا مشاہدہ کریں، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بہت کم افراد سیلقے اور تمکنت سے چل رہے ہیں۔ اکثر افراد لڑکھڑاتی چال، کچھ چھوٹے چھوٹے قدموں سے اور کچھ  اکڑ کر بے ڈھنگی سی چال چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ پروقار طریقے سے چلنا آسان بات نہیں کیونکہ ہر قدم کے شروع اور اختتام پر رکنے اور آگے بڑھنے کا عمل جنم لیتا ہے اور اس عمل میں 30 مختلف عضلات کام کرتے ہیں۔

انسانی چال میں بنیادی طور پر یکسانیت نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہےکہ چلنے میں توازن کے بدلتے تال میل کو برقرار رکھنا خاصا مشکل کام ہے۔ چلنے کے دوران ہمارا پانچ فٹ یا اس سے لمبا ڈھانچا اپنی مستقل طور پر تبدیل کرتا رہتا ہے۔ اس باعث چلنے کا یہ معرکہ بالکل اسی طرح مشکل ہوتا ہے جیسے بازی گر چھے فٹ اونچے پول پر تھوڑی کے بل کھڑا ہو۔ اس قسم کا کرتب سیکھنے اور انجام دینے کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے چناں چہ بچہ کئی مہینوں میں چلنا سیکھتا ہے۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ مناسب انداز میں چلنا سیکھ نہں پاتے اور بدلے میں اپنی پوری عمر خواہ مخواہ تکلیف میں مبتلا رہتے ہیں۔  بہرحال چلنے کی میکانیت پر کافی سائنسی تحقیق ہوچکی ہے۔ اسی لیے پچھلے چند عشروں کے دوران کسی معذوری کے سبب نہ چلنے والے افراد کے لیے ایسی ٹانگیں تیار کی جاچکی ہیں جن کی مدد سے وہ باآسانی چل سکتے ہیں۔ ایسے افراد مصنوعی ٹانگ سے بھی اپنی چال پُروقار اور  رواں بنا سکتے ہیں۔ رواں مناسب  چال کے لیے چند باتیں غور طلب ہیں اور اس میں بنیادی بات پاؤں پر وزن کی تقسیم ہے۔ ہر قدم پر یہ ضروری ہے کہ وزن پہلے ایڑی کی طرف آئے اور اس کے بعد اسی لمحے سے اسے نیچے پاؤں کی اگلی جانب منتقبل کیا جائے۔ اس طرح وزن پاؤں کے پنجوں سے ہوتا ہوا انگوٹھے تک جائے گا۔ اس عمل سے پاؤں کے زمین سے اٹھنے میں دھکیل ملتی ہے اور وہ جھولا کرسی کے مانند کام کرتا ہے۔ لہٰذا یوں جھٹکے لگتے ہیں۔

چلنے کے دوران گھٹنوں کی چپنیاں بالکل سامنے کے رخ ہونی چاہیے۔ اس طرح گھٹنا اور ٹخنا ایک سیدھ میں ہونے سے ان کے جوڑ چلنے کے دوران آسانی سے حرکت کرتے ہیں۔ آپ نے بعض افراد کو سیدھا چلنے کے لیے ٹانگیں کھول کر چلتے دیکھا ہوگا۔ ایسی بے ڈھنگی چال گھٹنوں اور ٹخنوں کے جوڑوں پر بےجا بوجھ ڈالتی ہے۔  ٹخنے کا جوڑ کچھ ٹیڑھے زاویے پر ہوتا ہے، معنی یہ کہ جب گھٹنے کا رخ سامنے کی طرف ہو تو پاؤں قدرے باہر کی طرف مڑتا ہے۔ اس قدرتی چال میں جوتوں کے بغیر پاؤں 15 ڈگری کے زاویے اور اونچی ایڑی والا جوتا پہنے ہوئے اس سے قدرے کم زاویے پہ ہوتا ہے چنانچہ زیادہ اونچی ایڑی والے جوتے سے چلنے میں دقت ہوتی ہے۔ اگر پاؤں اس سے زیادہ مڑیں تو چپٹے پاؤں والی بےہنگم چال بنتی ہے۔ نتیجے میں پیروں اور گھٹنوں کے ساتھ اندرونی رخ والے رباط پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے۔ رباط عضلات بدن کو ہڈیوں کے ساتھ مضبوطی سے جوڑ کر رکھتے ہیں۔ انہیں کی بدولت جسم کے عضلات اپنے صحیح مقام پر رہتے ہیں۔ چلنے کے دوران سر، کمر اور پیر سب ایک سیدھ میں ہونے چاہیئں۔ اس سے توازن قائم ہوتا ہے اور کھڑے ہونے میں دشواری نہیں ہوتی۔ یوں جسمانی یا ذہنی تناؤ بھی جنم لیتا۔ چلتے ہوئے سر کو نہ تو زیادہ آگے اور نہ ہی پیچھے کی جانب جھکائیں۔ اس انداز سے چلنے کی کوشش کریں کہ آپ قد آور دکھائی دیں۔ خود کو ایک پتلی تصور کریں جسے ایک مرکزی تار کی مدد سے حرکت دی جارہی ہو۔

اچھی چال کی ایک حتمی اور اہم راز یہ ہے کہ خود کو قدرتی انداز میں اور پرسکون محسوس کریں۔ کھڑے ہونے کے بعد چلنا شروع کرتے وقت اپنے دھڑ کو مظبوط کرکے چلیے۔ کھڑے ہونے کی حالت سے آگے بڑھنے کے لیے اپنے دھڑ کو کولھوں سے تھوڑا سا آگے کی طرف جھکائیں تاکہ جسمانی وزن کا مرکز ثقل آگے پروں کے بالکل سامنے ہو۔ اس غیر مستحکم وضع میں ہم منہ کے بل گرسکتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہےکہ ہم پہلے اپنی ایک ٹانگ اور پھر دوسری کو حرکت دیتے ہیں، اس سے ہمارے جسم کے تبدیل ہوتے مرکز ثقل کو عارضی طور پر سہارا ملتا ہے۔ یکے بعد دیگرے اس عمل کو ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں میں منتقل کرتے ہوئے ہم آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ چلنے کے لیے جسم کو اوپر نیچے اچھالنے یا دبانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ چلنا دراصل جسم کو قابو میں رکھتے ہوئے لڑ کھڑانے کا دوسرا نام ہے۔ چلنے سے نہ صرف ہم ایک سے دورسرے مقام تک پہنچنے کے فوائد حاصل کرتے ہیں بلکہ اس سے جسمانی فائدے بھی ملتے ہیں۔ یہ صحت کے لیے بھی مفید ہے۔ مثآل کے طور پر چلنے سے دوران خون میں اضافہ ہوتا ہے چنانچہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ چلنا دوران خون کو تیز کرنے کا بہترین محرک ہے۔

دورِ جدید میں خون کی سست رفتار گردش، معمولی مشقت سے سانس پھولنا، جوڑوں میں اکڑاؤ اور لچکیلے تھل تھل کرتے عضلات عمر میں اضافے کی علامت نہیں بلکہ ان کی وجہ ورزش کا فقدان ہے چنانچہ چلنے کی روزانہ ورزش جوانی کو برقرار رکھنے اور تبدرست و توانا رہنے کا سرچشمہ ہے۔

تحریر: زبیر وحید
شکریہ روزنامہ دنیا اسلام آباد

Leave a Reply