اصلاح معاشرہ۔کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

اصلاح معاشرہ۔کرو مہربانی تم اہل زمیں پر۔
خالق کائنات نے انواع و اقسام کے جانداربنا کر کرہ ارض کو خوبصورتی عطا فرما ئی۔ حضرت انسان کوشرف بخشا اور اشرف المخلوقات بنا دیا۔ کچھ جاندار پالتو ہوگئے اور کچھ غیر پالتو قرار پائے۔ پالتو جانوروں کی مناسب دیکھ بھال ہوتی ہے کیو نکہ ان کے ساتھ حضرت انسان کے مفادات منسلک ہیں۔ لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ باقی مخلوق کی کوئی اہمیت نہیں۔ اللہ رب العزت کی کوئی تخلیق بے مقصد نہیں دیگر جانداربھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ماہرین حیاتیات، ارضیات و ماحولیات متفق ہیں کہ ہرمخلوق کا اس دنیا کے نظام میں ایک اہم کردار ہے دیگر فوائد کے ساتھ ان کی ماحولیاتی اہمیت و ضرورت ہے۔ ہر جاندارقدرت کا شاہکارہے اس کا نعم البدل تخلیق کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ عارف کھڑی شریف میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا
جے ہک مچھر دا پر بھجے، توڑے جوجگ لگے
ہر گز راس نہ ہوندا مڑ کے جیوں کر آہا اگے
یعنی اگر ایک مچھر کا پر بھی ٹوٹ جائے تمام جہاں پوری کوششوں کے باوجوداس جیسا پر نہیں بنا سکتا۔ افسوس کہ یہ ساری مخلوق جو حضرت انسان کی خدمت کے لیے تخلیق ہوئی اور دیانت داری سے اپنی فرائض سر انجام دے رہی ہے ۔ملک عزیز میں اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔حقوق کا خیال تو دور کی بات ہے حضرت انسان ان کی نسل ختم کرنے میں لگا ہوا ہے۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے حوالے سے قانون سازی ضرور ہوئی ہوگی لیکن عمل درآمد کوئی نہیں۔
مغربی ممالک میں جانداروں کے حقوق، فلاح وبہبود کے حوالے سے ایسی داستانیں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں کہ بے تحاشا خراج تحسین پیش کرنے کو دل چلتا ہے۔ مثلاً جانوروں کے حقوق و تحفظ کے لیے باقاعدہ قانون سازی موجود ہے اور دیانت داری سے اس پر عمل ہوتا ہے۔یہاں تک کہ کوئی فلم یا ڈرامہ بناتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ عکس بندی کے دوران کسی جاندار کو نقصان نہیں پہنچایا گیا اوراس کا باقاعدہ حلف نامہ داخل کروایا جاتا ہے۔ شکار کے اصول و ضوابط ہیں اور ان پر سختی سے عمل درآمد کروایا جاتا ہے۔جانوروں کے تحفظ کے لیے سرکاری اداروں کے ساتھ نجی تنظیمیں مکمل فعال ہیں۔سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پرجانوروں کے ریسکیو اور علاج کے سینکڑوں ایمان افروز مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یقیناً ان قوموں کی ترقی اورخوشحالی کی ایک وجہ اللہ پاک کی مخلوقات کے ساتھ ہمدردی ہے۔ خالق کائنات کا وعدہ ہے کہ …؎
کرو مہربانی تم اہل زمین پر
خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر
تاریخ گواہ ہے کہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک پرسب سے زیادہ زور محسن انسانیت حضرت محمدؐنے دیا اور اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ جانوروں کو وقت پر خوراک دینے کی ہدایت فرمائی، زیادہ بوجھ ڈالنے سے منع فرمایا۔کتب احادیث و سیرت میں سینکڑوں واقعات گواہی دے رہے ہیں کہ کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق کے لیے رحمت بن کر آئے۔ ان سنہری تعلیمات پرعمل درآمد مغربی ممالک میں ہو رہا ہے افسوس اہل اسلام روایتی غفلت کی وجہ سے اس عظیم نیکی سے محروم ہیں۔شاید راقم بھی غفلت کا شکاررہتا اور یہ کالم نہ لکھا جاتا اگر چند دن قبل ایک واقعہ رونما نہ ہوا ہوتا۔ ہوا یوں کہ شیشم کے درخت پرایک چیل آشیانہ کے قریب ڈور کے ساتھ اس برے طریقہ سے الجھی کہ وہیں لٹک کر رہ گئی۔ مسلسل نگاہوں کے سامنے ہونے کی وجہ سے کربناک منظر دیکھا نہیں جاتاتھا۔ بلندی اتنی زیادہ تھی کہ کوئی تدبیرکارگرثابت نہ ہوئی۔ ریسکیو والوں سے رابطہ کیا تو جواب ملا کہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ پرندوں کو ریسکیو کرنا شاید ان کی ذمہ داریوں میں شامل نہ ہو۔ اسی کشمکش کے دوران چوبرجی میں ایک ادارہ سے رابطہ ہوا لیکن انہوں نے وضاحت فرمائی کہ ہم صرف علاج کرتے ہیں اور وہ بھی اس صورت میں جب جانور یا پرندہ یہاں آئے۔ راقم نے عرض کیا کہ اگرچیل آزاد ہوگئی تو آپ کا پیغام دے دیا جائے گا۔ معصوم پرندے کی تکلیف کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلسل لٹکے ہوئے بہتر گھنٹے گزر گئے۔اللہ بھلا کرے واپڈا مغل پور سب ڈویژن ہربنس پورہ کے لائن مین حضرات کا جنہوں نے ہمدردی کی بنیاد پر طویل جدوجہد کے بعداس پرندے کو آزاد کروایا اورابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ اللہ پاک ان کواجر عظیم عطا فرمائے۔
مقام فکر ہے کہ ملک عزیز میں ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی سہولت میسرہے اور نہ ہی کوئی نظام ہے جو جانوروں یا پرندوں کو ریسکیو کر سکے۔ ہر روز موٹر وے اور دیگر شاہراہوں پر اندھا دھند ڈرائیونگ سے ہزاروں جانور بے دردی سے کچلے جار ہے ہیں۔ اگر کوئی جاندار زخمی ہوجائے تو تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے اشرف المخلوقات آنکھیں بند کر کے گزر        جاتے…

Nadeem Ahmad Awan

Leave a Reply