اصلاح معاشرہ احسان فراموش

اصلاح معاشرہ احسان فراموش۔

تحریر : ندیم احمد اعوان

کسی زمانے میں ایک شہر میں فراز نامی بہت بڑاعالم رہتاتھا، وہ اپنی رَحم دلی کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ ایک دن کا ذِکر ہے کہ وہ گدھے پر سوار ہوکر کسی دوسرے گائوں میں جارہاتھا کہ شکاریوں کا ایک گروہ نظرآیا۔ کچھ دیر بعد ایک خوف زدہ بھیڑیا دوڑتاہوا اُس کے پاس آیا اور التجا کرنے لگا:’’اے رحم دل انسان!مجھے اپنے تھیلے میں چُھپالو۔ میں اس مصیبت سے بچ نکلا تو عمر بھر تمہارا شکر گزاررہوں گا۔‘‘عالم نے یہ سُن کر تھیلے سے کچھ چیزیں نکالیں اور بھیڑیئے کو اس میں چُھپا کر آگے پیچھے وہی چیزیں چُن دیں۔ اتنے میں شکاری بھی آپہنچے اور فراز سے بھیڑیئے کے بارے میں پوچھا۔فراز نے بھیڑیئے کی جان بچانے کے لیے جھوٹ کہا:’’ میں نے اُسے دوسری طرف جاتے ہوئے دیکھاہے۔

‘‘شکاری یہ بات سُن کر بھیڑیئے کو ڈھونڈتے ہوئے آگے چلے گئے۔فراز تھیلا اُٹھائے چند قدم ہی چلاتھا کہ بھیڑیئے نے اُسے آواز دی :’’ارے بھائی!میرادَم گُھٹ رہاہے۔ مجھے باہر نکالو۔‘‘فراز نے تھیلانیچے رکھ دیا اور بھیڑیئے کو باہر نکال دیا۔بھیڑیئے نے تھیلے سے باہر آتے ہی دانت نکوس کر کہا:’’وہ شکاری میرا پیچھا کر رہے تھے ۔ تم نے میری مدد کی ۔ اس پر میں تمہارااحسان مند ہوں ،لیکن بھوک سے میرادَم نکلے جارہاہے۔میرے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔اگر تم مجھے مرنے نہیں دیناچاہتے تو مجھے اجازت دو کہ میں تمہیں کھالوں۔‘‘ یہ کہتے ہی اُس نے فراز پر حملہ کردیا۔فراز کو جان کے لالے پڑگئے۔وہ اِدھر اُدھر بھاگ کر بھیڑیئے کے وار سے جان بچانے لگا۔اسی دوران میں فراز کو ایک بوڑھا آتادکھائی دیا۔فرازبوڑھے کی طرف دوڑ پڑا۔ ’’کیاہوا؟‘‘بوڑھے نے فراز کو ہانپتاکانپتادیکھ کر کہا۔فراز نے پھولی ہوئی سانسوں کے دوران اَٹک اَٹک کر کہا:’’اس بھیڑیئے کے پیچھے شکاری لگے ہوئے تھے۔ میں نے اس کی جان بچائی،مگر اب یہ مجھے کھانے کو دوڑ رہاہے۔آپ مہربانی کر کے اسے سمجھائیں، کہ احسان کر نے والے کو دغادینابُری بات ہوتی ہے۔

‘‘اتنے میں بھیڑیا بھی آگیا۔ بوڑھے نے اُس سے پوچھا:’’کیوں بھائی بھیڑیئے ! تم اس قدر احسان فراموشی کیوں کر رہے ہو؟‘‘بھیڑیئے نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا:’’کچھ شکاری مجھے شکار کرنے کے درپے تھے تومیں نے اس سے مددمانگی، اس نے مجھے فروخت کرنے کی غرض سے میرے ہاتھ پائوں باندھ کر تھیلے میں ٹھونس دیا، اور اَلّم غلّم سامان بھی اُوپر سے بھردیا۔حتیٰ کہ میرے لیے سانس لینابھی مشکل ہوگیا۔پھریہ شکاریوں سے کافی دیر تک باتیں کرتارہا۔ یہ چاہتاتھا کہ میرادَم گھٹ جائے اور میں ادھ مواہوجائوں اور یہ مجھے شہر لے جاکر فروخت کرے اور رقم کما ئے،لہٰذا میں اسے کیوں نہ کھائوں؟‘‘’’میراخیال ہے کہ تم بات کو بڑھاچڑھاکر بیان کر رہے ہو۔ذرا مجھے تھیلے میںگھس کر دکھائو تاکہ میں اندازہ کرسکوں،واقعی تم سچ ہی کہہ رہے ہو۔‘‘بوڑھا کچھ سوچتے ہوئے بولا۔بھیڑیا جَھٹ سے تھیلے میں گھس گیا۔ اُدھر بوڑھے نے برق رفتاری سے تھیلے کامنہ بند کر دیا اور فراز سے بولا:’’تمہارے پاس خنجر ہے؟‘‘فراز نے خنجر نکالاتو بوڑھے نے اسے اشارہ کیاکہ وہ بھیڑیئے پر وار کرے ۔ عالم فراز بڑبڑایا:’’اس سے تو وہ مرجائے گا۔‘‘ یہ سُن کر بوڑھا مسکراتے ہوئے بولا:’’بھیڑیا تو انتہائی چالاک اور احسان فراموش تھا، لیکن پھر بھی تم اسے ہلاک کرنے میں ہچکچارہے ہو۔تم بے حد رحم دل تو ہو، لیکن اسی کے ساتھ بے وقوف اور احمق بھی ہو۔

احسان فراموش کو پہچاننے کے بعد کسی موذی پر مزید احسان کرنا بے وقوفی کی ہی علامت ہے۔‘‘پھربوڑھے نے فراز کے ساتھ مل کر بھیڑیئے کو خنجر کے وار کرکے ہلاک کردیا۔دور ہاضر کیلئے اس سے بہتر اور مثال کیا دوں کہ الکشن جوں جوں قریب آتا جا رہا ہے۔انسانیت سے ہمدردی کا لبادہ اوڑھے ہوئے کئی ایسے بھیڑیئیے سیاستداں بنے پھرتے ہیں یادرکھیئیے کسی ایسے شخص کو ووٹ نہ دینا کہ جو احسان فراموش ہو اور ووٹ لینے کے بعد انسانیت کی تذلیل کرے اور آپ کی کشی کیلئے بعد میں سوالیہ نشان بنے۔

Leave a Reply