یہ زندگی کا اصول ہے

یہ زندگی کا اصول ہے

یہ زندگی کا اصول ہے
جو بچھڑ گیا اُسے بھول جا
جو مِلا ہے دل سے لگا کے رکھ
جو نہیں ملا اُسے بھول جا

نہ وہ دھوپ تھا نہ وہ چاندنی
نہ چراغ تھا نہ وہ روشنی
وہ خیال تھا کوئی خواب تھا
وہ تھا آئینہ اُسے بھول جا

وہ جو تیرے دل کے قریب تھا
وہ نہ جانے کس کا نصیب تھا
تجھے ہنس کے اُس نے بھلا دیا
تو بھی مسکرا کر اُسے بھول جا 

Leave a Reply